خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 617
خطبات مسرور جلد سوم 617 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء صرف دو مہینے کا کھانا دیں۔اگر اپنے ڈویلپمنٹ اخراجات بھی خرچ کر دیں اور سب کچھ خرچ کر دیں تب بھی ممکن نہیں ہے۔اور ہم جب اندازہ لگاتے ہیں تو ہم تو ایک ایک پائی خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔۔کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوتا۔لیکن سرکاری کاموں میں تو بے تحاشا اخراجات ہو رہے ہوتے ہیں۔پھر جماعت کے بہت سارے کام والنٹیئر ز کے ذریعے ہوتے ہیں۔خدمت خلق کے ذریعے سے ہو رہے ہوتے ہیں۔خدمت خلق کے جذبہ کے تحت ہو رہے ہوتے ہیں۔دوسروں میں یہ جذ بہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔آجکل گو کہ جذبہ پیدا ہوا ہوا ہے لیکن دیکھیں کتنی دیر قائم رہتا ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ صرف دو مہینے کا خرچ ہے۔جو تباہی آئی ہے، سڑکیں، ہسپتال ، سکول اور متفرق چیزیں ان کو بحال کرنے کے لئے ایک انفراسٹرکچر بحال کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔پھر لوگوں کے گھر ہیں، کاروبار ہیں، ایک خوفناک صورت حال ہے جو اس علاقے میں ہے۔ان کے لئے تو بلیز روپوں کی ضرورت ہوگی۔اربوں کی باتیں نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ رحم کرے اور آئندہ ملک کو ہر آفت سے بچائے۔یہ سارے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے ہوں۔حکومت کے ادارے بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والے ہوں۔اور عوام کی خدمت اور بحالی کے کام میں اسی طرح اچھے نمونے قائم کریں جس طرح آج کل اظہار کیا جارہا ہے۔جس طرح ایک سیاسی لیڈر نے کہا کہ ان حالات میں سیاسی فائدے نہ اٹھا ئیں بلکہ ایک ہو کر کام کریں۔اور بظاہر عمومی طور پر پروگراموں میں یہ نظارے ایک ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اللہ کرے کہ یہ ایک ہونا ہمیشہ قائم بھی رہے۔اور یہ اپنے رویے مستقل طور پر ایسے ہی کر لیں۔ایک قوم ہو کر آفت زدوں کی مدد کریں۔سیاسی مخالفتیں اور مذہبی منافرتیں ختم کریں۔علماء ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے بند کریں۔اس سے باز آ ئیں۔استغفار زیادہ کریں تا کہ اللہ تعالیٰ مہربان ہو اور قوم کو آئندہ ہر قسم کی آفت سے محفوظ رکھے۔ان حالات میں جب آسمانی آفات کا امکان ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہمارے سامنے کیا ہے۔آپ نے کیا دعاؤں کے نمونے ان سے بچنے کے لئے قائم کئے ان کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔آجکل پاکستانی اخباروں میں آتا ہے خود ان کے بعض علماء یہ مانتے