خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 604 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 604

خطبات مسرور جلد سوم 604 خطبہ جمعہ 7 اکتوبر 2005ء نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیۂ نفس ہوتا ہے اور کشفی قو تیں بڑھتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا منشاء اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ہمیشہ روزہ دار کو یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا ر ہے بلکہ اسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسکی اور سیری کا باعث ہے۔اور جو لوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا ا نہیں مل جاوے“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه 102 جدید ایڈیشن) اللہ کرے کہ حقیقت میں اس رمضان میں ہمارا تزکیہ نفس ہو اور روحانی حالت میں بہتری پیدا ہو اور آئندہ ہمارا ہر فعل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہو۔ایک افسوسناک خبر بھی ہے۔ٹی وی پر بھی آچکی ہے۔کافی لوگوں نے سن بھی لی ہوگی۔آج صبح پاکستان میں منڈی بہاؤالدین کے نزدیک ایک جگہ مونگ رسول ہے جہاں صبح فجر کی نماز کے وقت جب احمدی نماز ادا کر رہے تھے دو دہشت گرد ، دہشت گرد تو نہیں کہنا چاہئے ، مخالفین احمدیت ہی ہوں گے، دہشت گردی تو آپس میں جب ان کی لڑائیاں ہوتی ہیں ان کے لئے دہشت گردی ہے ہم نے تو جواب نہیں دینا۔ہمارے ہاں تو جو حملے کئے جاتے ہیں وہ اس لئے کہ ہم احمدی ہیں۔بہر حال وہ مسجد میں آئے اور نمازیوں پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے ،۔جس سے 8 راحمدی شہید ہو گئے اور تقریباً 20 زخمی ہیں۔شہید ہونے والوں میں دو بڑی عمر کے بزرگ تھے۔ایک کی 70 سال اور دوسرے کی 73 سال عمر تھی۔کچھ اور تفصیلات ابھی آتی ہیں۔باقی تقریباً سارے نوجوان ہی تھے۔ایک چھوٹا لڑکا بھی تھا جس کی عمر 16 سال ہے۔ایک 12 سال کا بچہ بھی شدید زخمی ہے۔