خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 603
خطبات مسرور جلد سوم 603 خطبہ جمعہ 7 اکتوبر 2005ء کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنی ہو۔ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا :ہاں! مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے رکھنا فرض کئے اور میں نے تمہارے لئے اس کا قیام جاری کر دیا ہے۔پس جو کوئی ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے اس میں روزے رکھے وہ گنا ہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اس کو جنم دیا ہو۔یعنی بالکل معصوم ہو جاتا ہے۔(سنن نسائی کتاب الصيام باب ذكر اختلاف يحيى بن ابى كثير والنضر بن شيبان فيه) اللہ کرے کہ ہم اس رمضان میں اسی طرح پاک ہوکر اور معصوم ہو کر نکلیں اور پھر یہ پاک تبدیلیاں بھی ہماری زندگیوں کا ہمیشہ حصہ بن جائیں۔رمضان میں عبادتوں کے معیار بلند تر کرنے اور قرآن کریم پڑھنے کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک طریق صدقہ و خیرات کرنا بھی تھا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ان دنوں میں آنحضور یہ اموال اس طرح خرچ کرتے تھے کہ اس خرچ کرنے میں تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتے تھے۔(نسائی، کتاب الصيام باب الفضل والجود في شهر رمضان) پس رمضان کی برکات سے فیضیاب ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی ایک ذریعہ ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس طرف بھی توجہ ینی چاہئے۔اموال کی قربانی بھی تزکیہ نفس کے لئے ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق دے کہ رمضان کی برکتوں کو سمیٹنے والے ہوں اور ہمارے روزے حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کے لئے ہوں اور پھر یہ برکتیں ہمیشہ ہماری زندگیوں کا حصہ بن جائیں۔جو کمزوریاں ہیں اس رمضان میں دور کریں۔دوبارہ کبھی پیدا نہ ہوں۔اور ہمیشہ اللہ کی بخشش اور رحمت اور پیار کی چادر میں لیٹے رہیں۔روزہ کی حقیقت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا