خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 602
خطبات مسرور جلد سوم 602 خطبه جمعه 7 اکتوبر 2005ء کہ چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 12) پس جب ہم اس طرح اپنی صبحوں اور شاموں سے گواہی مانگ رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کر رہے ہوں گے۔ہمارے گزشتہ گناہ بھی معاف ہورہے ہوں گے۔اور آئندہ تقویٰ پر قائم رہنے اور مزید نیکیاں کرنے کی توفیق بھی مل رہی ہوگی۔ورنہ ہمارے روزے بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرما رہے تھے رمضان آ گیا ہے۔اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے مقفل کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو اس میں زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔ہلاکت ہو اس شخص کے لئے جس نے رمضان کو پایا اور اس سے بخشانہ گیا۔اور اگر وہ رمضان میں نہیں بخشا گیا تو پھر کب بخشا جائے گا۔(الترغيب والترهيب كتاب الصوم الترغيب فى صيام رمضان حدیث نمبر 1495) پس اس حدیث سے مزید بات کھلتی ہے کہ بخشے جانے کے لئے صرف رمضان کا آنا ضروری نہیں ہے اور رمضان کی مبارکبادیں دینا کافی نہیں ہے جب تک اس میں روزے اس کوشش کے ساتھ نہ رکھے جائیں گے کہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنا ہے ان تبدیلیوں کو مستقل اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔صرف ایک سال یا ایک مہینہ کے عمل سے تو نہیں بخشے جائیں گے۔یہ مسلسل عمل ہے۔باوجود اس کے کہ ذکر ہے کہ جہنم کے دروازے مقفل کر دیئے جاتے ہیں۔لیکن پھر بھی آگے یہ بتایا کہ اس کے باوجود ضروری نہیں کہ سارے بخشے جائیں۔اس کے لئے عمل کرنے ہوں گے۔پس اس طریق سے ہمیں اپنے روزوں کو سنوارنا چاہئے تا کہ یہ نیکیاں اور اللہ تعالیٰ کی بخشش ہماری زندگیوں کا حصہ بن جائیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے کہا آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے ماہ رمضان