خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 574
خطبات مسرور جلد سوم 574 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کا میاب اور بامراد ہو سکتے ہو۔کیا صحابہ کرام مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا۔دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کے لئے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو پھر کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ملتا ہے۔پھر خیال کرو کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضا مندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا؟ بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔خدا ٹھگا نہیں جاتا۔مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الہی کے حصول کے لئے تکلیف کی پروانہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی (رپورٹ جلسه سالانه 1897 صفحه 79 طبع اول) پس چودہ سو سال بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے اپنے ماننے والوں میں یہ انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کی اور بہت سوں کے دلوں میں یہ انقلاب پیدا کیا جس کی وجہ سے مسیح محمدی کے ماننے والوں نے بھی پہلوں سے ملنے کی خوشخبری پائی اور رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کے انعام سے انعام یافتہ ہوئے۔آج ہم احمدی بھی جو ان بزرگوں کی اولادیں ہیں اور خالصتا اللہ کی خاطران نیکیوں پر قدم مارنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اور جن کے کرنے کا اس زمانے میں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر عہد کیا ہے۔یہ زمانہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کے مطابق دائمی اور ہمیشہ رہنے والا زمانہ ہے اور خلافت حقہ کے ذریعہ اس نے تا قیامت جاری رہنا ہے۔اس لئے اس تعلیم کے ذریعہ سے جس کی چند جھلکیاں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات سے پیش کی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نے اپنے اندر جو تبدیلیاں پیدا کیں اور قربانی کے اعلیٰ نمونے قائم کئے اُن تبدیلیوں کو ہم نے اس زمانے میں جاری رکھنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ہماری بچت اسی میں ہے کہ ہم اس