خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 573 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 573

خطبات مسرور جلد سوم 573 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء لے جایا کرتے تھے اور وہاں کے کنویں کا ٹھنڈا پانی پیا بھی کرتے تھے ، جو آپ کو بڑا پسند تھا۔آیت نازل ہونے کے بعد حضرت ابوطلحہ انصاری آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یہ باغ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔میں اسے اللہ کی راہ میں دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اس نیکی کو قبول کرے گا اور میرے آخرت کے ذخیرے میں شامل کرے گا۔تو صحابہ کی مالی قربانیوں کے یہ نمونے ہوتے تھے۔(بخارى كتاب الاشربة ـ باب استعذاب الماء ) اس آیت کی وضاحت میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تم حقیقی نیکی کو ( جو نجات تک پہنچاتی ہے ) ہرگز نہیں پاسکتے جب تک کہ بنی نوع کی ہمدردی میں وہ مال خرچ نہ کرو جو تمہارا پیارا مال ہے۔“ ( اور وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہاری پیاری ہیں) اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 358) پھر آپ نے فرمایا: ” مال کے ساتھ محبت نہیں چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ﴾ کہ تم ہرگز نیکی کونہیں پاسکتے جب تک کہ تم اُن چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جن سے تم پیار کرتے ہو۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ آجکل کے حالات کا مقابلہ کیا جاوے تو اس زمانہ کی حالت پر افسوس آتا ہے۔کیونکہ جان سے پیاری کوئی شے نہیں۔اور اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان ہی دینی پڑتی تھی۔تمہاری طرح وہ بھی بیوی اور بچے رکھتے تھے۔جان سب کو پیاری لگتی ہے۔مگر وہ ہمیشہ اس بات پر حریص رہتے تھے کہ موقع ملے تو اللہ کی راہ میں جان قربان کر دیں۔(کلمه طیبه صفحه نمبر 14 تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام آل عمران آیت نمبر 93) پھر آپ فرماتے ہیں: ”برکار اور نکمی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ یکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ نص صریح ہے لنْ تَنَالُوا البِرَّحَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: 93) جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے