خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 572 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 572

خطبات مسرور جلد سوم 572 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے ، اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے ، جہاں اس کی عبادت کرنا ضروری ہے وہاں اس کی راہ میں اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرنا بھی ضروری ہے۔اور یہی چیز ہے جس سے تزکیہ نفس بھی ہوتا ہے۔مال سے محبت کم ہوتی ہے اور ایک مومن اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی وقتاً فوقتاً قومی ضرورت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تحریک فرماتے تھے۔اور صحابہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتے تھے۔کیا مرد اور کیا عورتیں سب اپنے مال قربان کرتے تھے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں میں تحریک فرمائی کہ دین کو مالی قربانی کی ضرورت ہے تو حضرت بلال نے جو اپنی چادر پھیلائی ہوئی تھی وہ عورتوں کے زیورات سے بھر گئی۔عورتیں انڈی پڑتی تھیں، ایک دوسرے پر گرتی پڑتی تھیں کہ جو کچھ ہے پیش کر دیں۔ایک دفعہ آپ کی تحریک پر حضرت عمر اپنے گھر کا آدھا سامان لے کر حاضر ہوئے۔اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کا کل اثاثہ اللہ اور اس کے رسول کے حضور پیش کرنے کے لئے لے آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے ابو بکر ! گھر میں بھی کچھ چھوڑ کے آئے ہو؟ تو عرض کی : گھر میں اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں جس سے بڑھ کر کوئی اثاثہ نہیں ہے، جس سے بڑھ کر کوئی سامان نہیں ہے، جس سے بڑھ کر کوئی جائیداد نہیں ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جب میں اپنے گھر کا آدھا سامان لے کر حاضر ہوا تھا تو اس وقت میرا خیال تھا کہ آج میں ابوبکر سے آگے نکل گیا ہوں لیکن کہتے ہیں کہ ابو بکر کی بات سن کر میں نے سوچا کہ میں ابوبکر سے کبھی آگے نہیں نکل سکتا۔جب آیت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﴾ (آل عمران: 93) نازل ہوئی تو حضرت ابوطلحہ انصاری جو مدینہ کے انصار میں سے سب سے زیادہ مالدار تھے ، ان کے کھجوروں کے باغات تھے جن میں سب سے عمدہ باغ بیرحاء “ نامی تھا جو حضرت طلحہ کو بہت پسند تھا اور مسجد نبوی کے بالکل سامنے اور قریب تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر وہاں تشریف