خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 568 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 568

خطبات مسرور جلد سوم 568 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! علم کیوں کر مٹ جائے گا جبکہ ہم قرآن پڑھ رہے ہیں اور اپنی اولا دکو پڑھا رہے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنی اولاد کو پڑھاتے رہیں گے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آفرین ہے زیاد! میں تمہیں مدینہ کا انتہائی سمجھدار آدمی سمجھتا تھا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہود ونصاری انجیل کی کتنی تلاوت کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر کچھ بھی عمل نہیں کرتے۔(سنن ابن ماجة كتاب الفتن، باب ذهاب القرآن والعلم ) پس اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے دین کا علم دوبارہ قائم ہوا ہے۔یہ روشنی اور نور ہمیں دوبارہ ملا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ نور اور روشنی دوبارہ میسر فرمائی ہے۔اگر اپنے آپ کو بدلیں گے نہیں تو صرف قرآن کریم پڑھنا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔اور پھر ایسے لوگوں سے جو عمل نہیں کرتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بیزاری کا اظہار فرمایا ہے کہ مجھ سے تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ کاٹے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اصل یہی ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں سکھایا ہے جب تک مسلمان قرآن شریف کے پورے متبع اور پابند نہیں ہوتے وہ کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتے ( اور آج دیکھ لیں کہ ان کا یہی حال ہے ہر جگہ سے ماریں پڑ رہی ہیں۔ان کے ملکوں میں آ کر غیر ان کو مار رہے ہیں۔صرف اس لئے کہ پابندی نہیں ہے) جس قدر وہ قرآن شریف سے دور جا رہے ہیں اسی قدر وہ ترقی کے مدارج اور راہوں سے دور جارہے ہیں۔قرآن شریف پر عمل ہی ترقی اور ہدایت کا موجب ہے“۔(ملفوظات جلد 4 صفحه 379۔جدید ایڈیشن ) پس ہر احمدی اپنے جائزے لے غور کرے، گھروں میں اپنے بیوی بچوں کے جائزے لے۔مائیں بچوں کو شروع سے ہی اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ہر روز کی تلاوت کے بعد جائزہ لینا چاہئے کہ اس میں بیان کردہ جو حکم ہیں ، اوامر اور نواہی ہیں کرنے اور نہ کرنے کی باتیں ہیں۔ہم کس حد تک ان پر عمل کر رہے ہیں۔تبھی ہم اپنی اصلاح کی کوشش کر سکتے ہیں۔پس دعا کے ساتھ