خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 549
خطبات مسرور جلد سوم 549 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء بڑوں کی حرکتوں کی وجہ سے نو جوانوں کو ٹھو کر بھی لگ سکتی ہے۔اس لئے نو جوانوں کے اس تعلق اور اخلاص میں بڑھنے کی وجہ سے جماعت کے بڑوں پر اور زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ان کو اور زیادہ فکر سے اپنے نمونے قائم کرنے چاہئیں تا کہ کبھی کسی کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔اپنے نفس کی قربانیوں میں اور زیادہ ترقی کریں۔اپنی مالی قربانیوں میں اور زیادہ ترقی کریں۔اپنے بزرگوں کے نمونوں کو بھی دیکھیں، اپنے پہلے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنے موجودہ حالات پر بھی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔اور شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جہاں اپنے پر اظہار ہورہا ہو وہاں اللہ تعالیٰ کی خاطر دینے کا بھی اظہار ہو رہا ہو۔اور ہر قسم کی قربانی میں پہلے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اپنی اگلی نسل کے لئے بھی نیک نمو نے قائم کریں۔یہی باتیں ہیں جو آپ کے ایمان میں ترقی کا بھی باعث بنیں گی اور احمدیت کی نوجوان نسل کے جماعت کے ساتھ بہتر تعلق اور نیکیوں میں بڑھنے کا بھی باعث بنیں گی۔نوجوانوں سے بھی میں کہتا ہوں کہ آپ لوگ جو اپنے ہوش و حواس کی عمر میں ہیں۔جماعت سے اپنے تعلق کو مزید پختہ کریں۔اپنے نمونے قائم کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کریں۔اگر برائی کسی میں دیکھتے ہیں تو اس پر اعتراض شروع کر کے اس پر ٹھوکر نہ کھائیں۔اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں۔اس معاشرے میں جہاں قدم قدم پر گند اور بے حیائی ہے اپنے آپ کو اس سے بچائیں۔اللہ کے حضور جھکنے والے بہنیں۔اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے بنیں۔کیونکہ یہی چیز ہے جس سے آپ کا خدا تعالیٰ سے مزید پختہ تعلق پیدا ہوگا۔مزید مضبوط تعلق پیدا ہوگا۔اور جب اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھے گا تو پھر نیکیوں میں قدم آگے بڑھے گا۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا مزید فہم اور ادراک پیدا ہوگا۔ایمان میں مزید ترقی ہوگی۔صرف اس بات پر ہمیں خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مان لیا ہے اور بس کافی ہے۔یہ تو ماننے کے بعد ایک پہلا قدم ہے۔ایمان میں ترقی ہو گی تو مومن کہلائیں گے۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی بعض ان پڑھ جاہل لوگوں کو یہ جواب دیا تھا کہ ٹھیک ہے تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا اور تم مسلمان ہو گئے