خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 548 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 548

خطبات مسرور جلد سوم 548 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء برائیوں کو چھوڑنے کا جہاد ہے۔حقوق العباد ادا کرنے کے لئے جہاد ہے۔تب کہا جا سکتا ہے کہ ہم ایمان لانے والے ہیں، ہم اس زمانے کے امام کو ماننے والے ہیں۔عہد تو ہم یہ کرتے ہیں کہ اے مسیح موعود (علیہ السلام) تیری جماعت میں شامل ہونے کے بعد خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرتے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے لیکن ہمارے عمل اس کے الٹ ہوں، ہماری برادریاں، ہماری رشتہ داریاں، ہماری دوستیاں، ہم پر جماعتی وقار سے زیادہ حاوی ہو جائیں، ہماری انائیں جماعتی عزت پر حاوی ہو جائیں اگر یہ باتیں ہم میں ہیں تو یہ سب دعوے اور یہ سب عہد جھوٹے ہیں۔پس ہر احمدی گہرائی میں جا کر اپنا جائزہ لے کہ کیا وہ اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہے؟ اور فی زمانہ اپنی جان قربان کرنے کا مطلب اپنے نفس کی قربانی ہے۔اور نفس کی قربانی جماعت کا وقار قائم کرنے کے لئے بھی دینی ہوگی۔اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کے لئے بھی دینی ہوگی۔جھوٹی اناؤں اور عزتوں کو ختم کرنے کے لئے بھی دینی ہوگی۔پھر مال کا جہاد ہے، مالی قربانی ہے۔ہر ایک اپنا اپنا جائزہ لے کہ جو مالی کشائش اللہ تعالیٰ نے آپ میں پیدا کی ہے کیا اس کے مطابق چندوں کی ادائیگی کر رہے ہیں؟ دنیاوی خواہشیں تو کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ایک کے بعد دوسری خواہش تیار ہوتی ہے۔لیکن اگر ہر احمدی، کمانے والا احمدی ، اپنے اوپر فرض کر لے کہ میری آمد کا سولہواں حصہ میرا نہیں ہے بلکہ جماعت کا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر میں نے جماعت کو دینا ہے تو مجھے یقین ہے آپ کے بجٹ یہاں بھی کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔الحمد للہ کہ وصیت کرنے کی تحریک کے بعد سے آپ کے موصی صاحبان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔چار گنا تقریباً۔بارہ سے چوالیس ہو گئے ہیں۔چھوٹی سی جماعت ہے۔گواتنی چھوٹی بھی نہیں۔ابھی بہت گنجائش باقی ہے۔لیکن میرا خیال ہے یہ اضافہ بھی بالکل نو جوانوں اور عورتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ابھی میں نے جائزہ نہیں لیا ، جب جائزہ لیا جائے گا تو پتہ لگ جائے گا کہ صورت حال کیا ہے۔تو بڑی عمر کے اور اچھا کمانے والے جو لوگ ہیں ان کو بھی وصیت کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔الحمد للہ یہ بات مجھے نظر آئی ہے کہ نو جوان بچے اور بچیاں احمدیت سے رشتے اور تعلق میں زیادہ بڑھ رہے ہیں۔اللہ ان کے ایمان میں مزید ترقی دے لیکن بعض دفعہ بعض