خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 544
خطبات مسرور جلد سوم 544 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء کئی دن سے بارش پڑ رہی تھی ، ہر طرف پانی ہی پانی کھڑا تھا، پرندوں کو دانہ کھانے کے لئے کوئی جگہ میسر نہیں تھی۔تو وہ بوڑھا آتش پرست اپنے گھر کی چھت پر کھڑا پرندوں کو دانہ ڈال رہا تھا ، دانہ پھینک رہا تھا کہ پرندے آکے کھالیں۔کسی نے دیکھ کر کہا کہ تم آتش پرست ہو، تمہیں اس کا کیا ثواب ملے گا، اگر مسلمان ہوتے تو اس نیکی کا ثواب بھی تمہیں ملتا۔اس آتش پرست نے ، آگ کو پوجنے والے نے کہا کہ ثواب تم نے تو نہیں دینا تمہیں کیا پتہ خدا میرے ساتھ کیا سلوک کرے، کیونکہ ہر مذہب والے کے دل میں فطرتی طور پر خدا کا تصور بہر حال ہوتا ہے۔پھر ایک دفعہ یہی مسلمان جس نے اس آتش پرست کو یہ بات کہی تھی، حج کرنے گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ آتش پرست بھی وہاں حج کر رہا تھا۔اس نے پوچھا تم یہاں کس طرح آگئے؟ تو اس آتش پرست نے جواب دیا کہ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ اگر یہ میری نیکی ہے تو اس کا اجر مجھے ضرور ملے گا۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی صورت میں اس کا اجر مجھے دیا اور آج میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حج بھی کر رہا ہوں اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہوں۔تو اللہ تعالیٰ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا۔پس جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت کی توفیق ملی ، آپ سے براہ راست فیض پانے کی توفیق ملی اور یوں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق عمل کر کے پہلوں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ملنے کی توفیق پائی اور اس طرح صحابہ کا درجہ پایا۔پس یقیناً ان میں نیکی تھی ، ان میں اسلام کی گرتی ہوئی حالت دیکھ کر ایک فکر کی کیفیت تھی۔ان میں خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی ایک تڑپ تھی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی نیکیوں اور ان کی اس تڑپ کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے ، آپ پر ایمان لانے اور پھر اس ایمان پر مضبوط ہوتے چلے جانے کی توفیق عطا فرمائی۔پھر خلافت اولی اور خلافت ثانیہ کے ابتدائی زمانے میں آپ میں سے بعض کے باپ دادا نے ، بزرگوں نے بیعت کی ، احمدیت قبول کی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو احمدیت قبول کرنے کی