خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 513 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 513

خطبات مسرور جلد سوم 513 خطبه جمعه 26 اگست 2005 ء نہیں، بہتر یہ ہے تم مجھے چھوڑو۔میں اس سے بہتر حالت میں ہوں۔وہ جس طرح مجھے دیکھ رہا ہے، اسی طرح پانی کی طرف دیکھ رہا ہے ، پانی مانگ رہا ہے تم پہلے اس زخمی کو پانی پلاؤ۔پانی پلانے والے جب اس دوسرے زخمی کے پاس پہنچے تو پھر ایک طرف سے کسی کی کراہتے ہوئے پانی مانگنے کی آواز آئی۔تو اس دوسرے زخمی نے کہا کہ نہیں وہ زخمی میرے سے زیادہ حقدار ہے، اس کو پانی دو۔میں برداشت کرلوں گا۔اس طرح جب پانی پلانے والے تیسرے صحابی کے پاس پہنچے تو جب ان کے منہ کو پانی لگایا گیا تو پانی پینے سے پہلے ہی وہ اللہ کے حضور حاضر ہو گئے۔اور جب یہ پانی پلانے والے واپس دوسرے کے پاس پہنچے تو ان کی روح بھی قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔اور جب پہلے کے پاس پہنچے تو وہ بھی اللہ کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔(الأستيعاب في معرفة الاصحاب باب عكرمة بن ابی جہل) تو دیکھیں اس آخری جان کنی کے لمحات میں بھی اپنے بھائی کی خاطر قربانی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرتے ہوئے وہ تمام رخی صحابہ اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔روایت میں آتا ہے کہ پہلے پانی مانگنے والے حضرت عکرمہ تھے۔اور حضرت عکرمہ کا یہ حال تھا کہ ایک وقت میں مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے۔اپنوں کے ساتھ بھی قربانی کا کوئی تصور نہیں تھا۔اور ایک وقت ایسا آیا کہ دوسرے مسلمان کی خاطر اپنی جان بھی قربان کر دی۔اسی طرح دوسرے دو صحابہ تھے۔تو جان لینے والوں میں قربانی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرتے ہوئے جان دینے کا یہ انقلاب تھا جوان لوگوں نے آنحضرت علی یا اللہ سے منسوب ہونے کے بعد قائم کیا ہے۔انہوں نے یہ معیار عليه وسلم حاصل کئے اور یوں اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل ہوئے۔ہم سب جانتے ہیں کہ وہ رہتی کون سی تھی یا کون سی ہے جس کو پکڑ کر ان میں اتنی روحانی اور اخلاقی طاقت پیدا ہوئی، قربانی کا مادہ پیدا ہوا، قربانی کے اعلیٰ معیار قائم ہوئے۔جس نے ان میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے انہیں اس حد تک اعلیٰ قربانیاں کرنے کے قابل بنا دیا۔وہ رتی تھی اللہ تعالیٰ کی آخری شرعی کتاب قرآن کریم ، جو احکامات اور نصائح سے پُر ہے۔جس کے حکموں پر سچے دل سے عمل کرنے والا خدا تعالیٰ کا قرب پانے والا بن جاتا ہے۔وہ رہتی تھی