خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 512

خطبات مسرور جلد سوم 512 خطبہ جمعہ 26 اگست 2005 ء کنارے پر کھڑے تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں بے شمار احکامات دے کر ان پر عمل کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس کے ترجمہ میں جیسا کہ میں نے ابھی پڑھا ہے۔ہم دیکھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ایک ہو کر رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ یہ اللہ کی رسی تم پر ایک انعام ہے۔اللہ کی اس ریتی کو پکڑنے کی وجہ سے تم پر اللہ کے فضل نازل ہوئے اور اس کے انعاموں سے تم نے حصہ پایا۔تمہارے معاشرے کے تعلقات بھی خوشگوار ہوئے اور تمہاری آپس کی رشتہ داریوں میں بھی مضبوطی پیدا ہوئی۔ہم آنحضرت علی اللہ کی بعثت سے قبل کے واقعات تاریخ میں پڑھتے ہیں اور پھر آپ کی بعثت کے بعد کے حالات بھی ہمارے سامنے ہیں کہ کس طرح محبتیں بڑھیں اور ایک دوسرے سے کس طرح اخوت کا رشتہ قائم ہوا۔کس طرح ایک دوسرے کے بھائی بھائی بنے۔دیکھیں مدینہ کے انصار نے ملکہ کے مہاجرین کو کس حد تک بھائی بنایا کہ اپنی آدھی جائیدادیں بھی ان مہاجرین کو دینے کے لیے تیار ہو گئے بلکہ بعض جن کی ایک سے زائد بیویاں تھیں۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ ہم ایک بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں اور تم اس سے شادی کر لو۔تو اس حد تک بھائی چارے اور محبت کی فضا پیدا ہوگئی تھی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ محبت اور بھائی چارے کی یہ فضا صرف امن اور آسائش کے وقت میں نہیں تھی کہ فراوانی ہے ، کشائش ہے تو کچھ دے دیا بلکہ جنگ اور تکلیف کی حالت میں بھی قربانی کے اعلیٰ معیار قائم ہوئے۔اور یہ صرف اس لئے تھے کہ ان لوگوں نے اللہ کی رسی کی پہچان کی اور اسے مضبوطی سے پکڑا۔یاد کریں ایک جنگ کے بعد کا وہ نقشہ جب جنگ کے بعد پانی پلانے والے مسلمان زخمیوں کے درمیان پھر رہے تھے ، ایک کراہ کی آواز سنی۔جب وہ پانی پلانے والے اس کراہنے والے صحابی کے پاس پہنچے جو زخموں سے چور تھے ، جان کنی کی حالت تھی۔پانی پلانے والے نے جب پانی ان کے منہ کو لگایا تو اس وقت ایک اور کراہ کی آواز آئی ، پانی مانگا گیا۔پہلے زخمی نے کہا: