خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 509 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 509

خطبات مسرور جلد سوم 509 خطبہ جمعہ 19 اگست 2005 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”ہاں جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبياء علي اللہ کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے اور نیز آنحضرت عبدلیل اللہ کے حق میں فرمایا ہے۔إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيم (القلم: 5) تو خلق عظیم پر ہے اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کے انتہائی کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہوگا کہ جہاں تک درختوں کے لیے طول وعرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل ہے۔ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائل حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کا ملہ تامہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔(مکمل طور پر آنحضور عبہ میں موجود ہیں )۔سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحه 606 بقيه حاشیه در حاشیه نمبر (3) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " آنحضرت صلی اللہ کی زندگی ایک عظیم الشان کامیاب زندگی ہے۔آپ کیا بلحاظ اپنے اخلاق فاضلہ کے اور کیا بلحاظ اپنی قوت قدسی اور عقد ہمت کے اور کیا بلحاظ اپنی تعلیم کی خوبی اور تکمیل کے اور کیا بلحاظ اپنے کامل نمونہ اور دعاؤں کی قبولیت کے ، غرض ہر طرح اور ہر پہلو میں چمکتے ہوئے شواہد اور آیات اپنے ساتھ رکھتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایک نجی سے نبی انسان بھی (یعنی بیوقوف انسان بھی ) بشر طیکہ اس کے دل میں بے جا ضد اور عدوات نہ ہو ( ایسا جو ضدی قسم کا آدمی حد سے بڑھ جائے ) صاف طور پر مان لیتا ہے کہ آپ تَخَلَّقُوْا بِاخْلَاقِ الله کا کامل نمونہ اور کامل انسان ہیں۔اور پھر اخلاق کو صحابہ میں رائج کرنے کی بھی کوشش فرمائی اور کیا بھی۔اس بارے میں (الحکم 10 اپریل 1902ء صفحه 5) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "جو تبدیلی آنحضرت صلی اللہ نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے سے نکال کر جس بلندی اور مقام تک انہیں پہنچایا اس ساری حالت کے نقشہ