خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 508 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 508

خطبات مسرور جلد سوم 508 خطبہ جمعہ 19 اگست 2005 کرتے ہوئے امن اور سکون سے رہنا چاہئے۔پھر افسروں کو بتایا کہ تمہارے اعلیٰ اخلاق کیا ہیں۔اس وقت تمہارے اعلیٰ اخلاق قائم ہوں گے جب تم اپنے آپ کو قوم کا خادم سمجھو گے اور قوم کی خدمت کے لئے اپنی تمام تر صلاحتیں بروئے کارلاؤ گے۔اپنے ذاتی فوائد حاصل کرنے کی بجائے لوگوں کی خدمت کی طرف توجہ دو گے تو تبھی تم اچھے افسر اور اچھے لیڈر کہلا سکتے ہو۔غرض کہ بیشمار اخلاق ہیں اور آداب ہیں جو آپ نے ہمیں سکھائے اور اپنے عمل سے ان کے معیار قائم کئے۔کوئی بھی دنیا کا ایسا خلق نہیں جو اس معلم اخلاق نے اپنے نمونے سے ہمیں سکھایا نہ ہو اور لوگوں کو بتایا نہ ہو۔بلکہ یہ توقع رکھی کہ یہ اخلاق نہ صرف اپنی زندگیوں میں لاگو کرنے ہیں، ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے بلکہ ان کے اعلیٰ معیار بھی قائم کرنے ہیں۔بعض دفعہ اصلاح کے لیے ناراضگی ہو بھی تو اخلاق کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ہونی چاہئے۔مقصد اصلاح ہونا چاہئے نہ کہ دلوں میں کینہ پیدا ہو جائے یا یہ مقصد ہو کہ کسی سے بدلہ لینا ہے۔یہ معیار ہونا ہیں جو کہ ایک احمدی کو اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں۔آنحضرت صلی اللہ کے بارے میں ایک اور روایت آئی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ بد اخلاق ترین اشخاص سے بھی کس طرح شفقت سے پیش آیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے آنحضور علی اللہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔آنحضور عبد اللہ نے اسے دیکھ کر فرمایا یہ اپنے گھرانے میں بہت ہی بُرا بھائی ہے اور اپنے خاندان کا بہت ہی بُرا بیٹا ہے۔جب وہ آکر بیٹھ گیا تو آنحضور علی اللہ نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے نہایت خوش اخلاقی سے گفتگو فرمائی۔جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! جب آپ نے اسے دیکھا تو اس کے بارے میں فلاں فلاں بات کی اور پھر اس سے گفتگو کے دوران آپ نے کمال خندہ پیشانی کا مظاہرہ فرمایا۔آپ نے فرمایا عائشہ ! تو نے کب مجھ کو بدزبانی کرتے ہوئے پایا۔یقیناً سب سے بُرا آدمی اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہوگا جس کی بدی سے ڈر کر لوگ اس کی ملاقات چھوڑ دیں۔(بخارى - كتاب الأدب – باب لم يكن النبى فاحشاً ولا متفاحشا حديث 6032)