خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 507
خطبات مسرور جلد سوم 507 خطبه جمعه 19 اگست 2005 ء کو یہ سبق بھی دیا کہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہوتی ہیں جن سے عموماً بدظنیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہی باتیں ہیں جو معاشرے میں فساد کی بنیاد پڑتی ہیں اس لئے ان سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔پھر پڑوسی ہیں، اگر پڑوسی ، پڑوسی سے خوش ہو تو اس پڑوسی کو جس سے اس کا پڑوسی خوش ہے اعلیٰ اخلاق کا مالک سمجھا جاتا ہے۔اس لئے آپ نے اپنے پڑوسی کے حقوق کے بارے میں بہت سی نصائح فرمائی ہیں۔صحابہ بھی اس وجہ سے بہت زیادہ کوشش میں رہتے کہ کس طرح پڑوسی کو خوش رکھیں۔ایک دفعہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ مجھے کس طرح علم ہو کہ میں اچھا کر رہا ہوں یا برا کر رہا ہوں۔حضور علی یا اللہ نے فرمایا کہ جب تم اپنے پڑوسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم بڑے اچھے ہو تو سمجھ لو کہ تمہارا طرز عمل اچھا ہے۔اور جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم بہت بُرے ہو تو سمجھ لو کہ تمہارا رویہ برا ہے۔یعنی خود تم اپنے حج نہ بن جاؤ۔بعض لوگ اپنے آپ کی خود ہی تعریف کرتے ہیں کہ ہم اچھے ہیں۔بلکہ تمہارے پڑوس تمہارے اچھے ہونے کی گواہی دیں۔اگر ہر کوئی اس بات پر عمل کرے تو ایک خوبصورت معاشرہ قائم ہو جاتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ پڑوسی سے اچھا سلوک کرنا اتنا بڑا اخلق ہے کہ جبریل علیہ السلام ہمیشہ مجھے پڑوسی سے حسن سلوک کی تاکید کرتا رہا ہے یہاں تک کہ مجھے خیال پیدا ہوا کہ وہ اسے وارث ہی نہ بنادے۔اتنی اہمیت ہے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی۔پھر حکام کی اطاعت ہے۔اس بارے میں آپ نے ہمیشہ ہی تاکید فرمائی اور فرمایا کہ حکام کی اطاعت کرنا تمہارا فرض ہے اور اعلیٰ اخلاق کا یہ تقاضا ہے اور اچھا شہری ہونے کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے افسر کی اطاعت کرو۔کوئی حبشی غلام بھی تمہارا امیر مقرر ہو جائے ، تمہارا افسر مقرر ہو جائے تو اس کی اطاعت کرو اور پھر جس ملک میں رہ رہے ہو جس کے شہری ہو اس سے محبت کرنے کے بارے میں فرمایا کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔اس لیے جہاں یہ اخلاق تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے افسروں کی اطاعت کرو اور اپنے وطن سے محبت کرو وہاں یا درکھو کہ یہ چیزیں ایمان کا حصہ بھی ہیں۔اس لیے ایک مسلمان کو جس ملک میں بھی وہ رہ رہا ہے ملکی قانون کی پابندی