خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 480
خطبات مسرور جلد سوم 480 خطبه جمعه 12 اگست 2005 اور ایسے دیے کہ جس سے گھر کے بچے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو لاڈلے نواسوں میں بھی کبھی یہ احساس پیدا نہ ہوا جو کہ آپ کے انتہائی لاڈلے تھے کہ ہم کسی ایسی ہستی کے نواسے ہیں کہ جس کے ماننے والے اس کے وضو کے پانی کو بھی ضائع نہیں ہونے دیتے اس لئے ہم بھی ان لوگوں کے سامنے شہزادوں کی طرح رہیں۔آپ نے اپنے عمل سے اپنے بچوں میں بھی یہ بات راسخ کردی کہ تمہاری زندگی میں سادگی اور مسکینی رہے گی تو اسی میں تمہاری بڑائی ہے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ ہم سے بعض لوگ جب محبت کا غیر ضروری حد تک اظہار کرتے تھے تو ہم کہا کرتے تھے کہ ہم سے بے شک محبت کر و مگر محض اسلامی محبت۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ مجھے میرے حق سے زیادہ بڑھا چڑھا کر نہ پیش کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بندہ پہلے بنایا اور رسول بعد میں۔صلى الله ( مجمع الزوائد - كتاب علامات النبوة باب في تواضعه۔پس یہ تھی وہ تربیت جو آپ نے اپنے عمل سے اپنے گھر والوں کی بھی کی۔اپنے عمل سے یہ سمجھا دیا کہ میں اللہ کا ایک عاجز بندہ ہوں اور اس بندگی کے اعلیٰ معیار نے ہی مجھے یہ قرب کا مقام عطا فر مایا ہے کہ تم لوگ بھی اس عاجزی، مسکینی اور سادگی کو اپنائے رکھو تو تمہیں بھی اللہ تعالیٰ قرب کے راستے دکھاتا رہے گا۔ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ میں نسل آدم کا سردار ہوں لیکن یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس بات کا ذکر فرمایا ہے ( جو پہلے حدیث بیان کی گئی ہے) کہ میں اللہ کا بندہ پہلے ہوں، اس کا ایک اور روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری تعریف و تعظیم میں اس طرح مبالغہ نہ کرنا جس طرح نصاری نے ابن مریم کے حق میں کیا۔میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں۔اس لئے فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ مُجھے اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہنا۔(بخاری - کتاب احادیث الانبياء - باب قول الله واذكر فى الكتب مريم