خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 479

خطبات مسرور جلد سوم 479 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء کی جاہ و حشمت سے نفرت کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے آخری شرعی نبی بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ کی بعثت کے بعد سے شرعی نبوت کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے لیکن اس عظیم اعزاز نے آپ میں کسی جاہ وجلال کا اظہار پیدا نہیں کیا۔آپ کی زندگی میں تخت و حکومت کے اظہار نظر نہیں آتے بلکہ اس چیز نے آپ میں مزید مسکینی ، سادگی اور قناعت پیدا کی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کا اور شریعت کا اور اس تعلیم کا جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی سب سے زیادہ فہم و ادراک آپ کو ہی تھا۔اور ان حکموں پر عمل کرنے کے لئے آپ نے ہی اعلیٰ معیار قائم کرنے تھے، آپ نے ہی اسوہ قائم کرنا تھا جن پر چلنے کی آپ کی امت نے آپ کے مانے والوں نے کوشش کرنی تھی اور کرنی چاہیئے۔آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی امت کو یہ سمجھانے والے تھے کہ وہ تعلیم کیا ہے جس پر تم نے عمل کرنا ہے۔ایک جگہ قرآن کریم میں اسی بات کا یوں حکم آیا ہے کہ ﴿وَمَا هَذِهِ الْحَيْوَةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبْ - وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ - لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴾ (العنکبوت :65) اور یہ دنیا کی زندگی غفلت اور کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں اور یقیناً آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے۔کاش کہ وہ جانتے۔پس جس نے دوسروں کو یہ بتانا ہو، جس پر یہ تعلیم اتری ہو کہ دوسروں کو بتادو، اپنی امت کو یہ بتا دو کہ یہ دنیا کھیل تماشا کے سوا کچھ نہیں اور آخرت کی فکر کرو۔ان دنیاوی چیزوں کو ضرورت کے لئے استعمال تو کرو لیکن مقصود نہ بناؤ۔سادہ زندگی اور قناعت اور خدا کو اس کے نتیجے میں یاد کرنا یقیناً فائدہ مند باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والی ہیں۔بجائے اس کے کہ تم دنیا کی کھیل کود میں پڑ کر دنیا کے آرام و آسائش میں وقت گزار دو۔تمہارے لئے بہتر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرو اور اس کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی گزارو۔پس یہ تعلیم تھی جو آپ نے ہمیں دی اور جس نے یہ تعلیم ہمیں دی جس کا تقویٰ کا معیار بھی غیر معمولی تھا ، جو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی بھی تھا۔تو دیکھیں انہوں نے اس اُسوہ کی ، ان باتوں کی خود کتنی اعلی مثالیں قائم کی ہوں گی۔آپ نے اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اس چیز کو مدنظر رکھا۔گھر میں بھی مسکینی اور سادگی کے سبق گھر والوں کو دیئے