خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 475
خطبات مسرور جلد سوم 475 خطبه جمعه 5 اگست 2005 ء میں ہمارے جو دو پریس ہیں نصرت آرٹ پر لیس اور ضیاء الاسلام پریس، پولیس ان کو سیل کرنے کے لئے آئی ہوئی تھی اور شاید الفضل کو بھی بند کر دیں۔ایک طرف تو دنیا یہ بھتی ہے کہ جماعت احمد یہ اسلام کا صیح نقشہ پیش کر رہی ہے۔دوسری طرف یہ لوگ جو اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ، روکیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ چاہے جتنی مرضی روکیں ڈال لیں ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے اوپر بارش کے قطروں کی طرح نازل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔یہ ایک دو پریس بند کرنے سے جماعت احمدیہ کی ترقیات کو تو نہیں روک سکتے۔ہاں یہ خطرہ ضرور ہے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب کے نیچے نہ آجائیں۔اصل میں ہم تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے ہیں ، اس کے پیارے نبی ﷺ پر مکمل اور کامل ایمان لانے والے ہیں، آپ پر اتری ہوئی شریعت پر عمل کرنے والے ہیں۔اور آنحضرت کے عاشق صادق کی جماعت میں شامل لوگ کسی ایک ملک کے سفیر نہیں ہیں ، پاکستان کے سفیر ہونے یا کسی خاص ملک کا سفیر ہونے کا سوال نہیں ہے بلکہ ہم اسلام کے سفیر ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اس تعلیم کے سفیر ہیں جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی اور اس تعلیم کے سفیر ہیں جو محبتیں بکھیر نے والی ہے نہ کہ نفرت پھیلانے والی۔اللہ تعالیٰ ہمیں شکر کے جذبات سے لبریز رکھتے ہوئے ہمیشہ اس تعلیم پر عمل کرنے اور اعمال صالحہ بجالانے کی توفیق دیتا چلا جائے۔ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے اوپر نازل ہوتا دیکھتے رہیں۔اور پھر اس کے ان فضلوں کو دیکھتے ہوئے اس کے آگے جھکتے ہوئے سجدات شکر بجالانے والے ہوں۔جس دن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر ہو رہا تھا یعنی جلسہ کے دوسرے دن ، اس دن اللہ تعالیٰ نے بارش بھیج کر یہ بتایا تھا کہ جس طرح تم اس بارش کے قطرے نہیں گن سکتے اور یہ جو جھڑی لگی ہوئی ہے اس کے قطروں کو نہیں گن سکتے اسی طرح میرے پیارے مسیح کی جماعت پر میرے افضال کی جو بارش ہو رہی ہے اس کو بھی تم گن نہیں سکتے۔پس تمہارا کام ہے کہ ان فضلوں کی بارش کے ساتھ اپنے دلوں کو مزید شکرگزاری کے جذبات سے لبریز کرتے چلے جاؤ ، اپنے آپ کو مزید شکر گزار بندہ بناتے چلے جاؤ۔