خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 468
خطبات مسرور جلد سوم 468 خطبه جمعه 5 اگست 2005 ء اس جلسہ کے کاموں اور پروگراموں میں گزشتہ سال کی نسبت بہتری نظر آتی تھی۔اس طرح یہاں جلسہ پر جو لوگ شامل ہوئے ان میں سے اکثریت کا یہی اظہار تھا، یہی تاثرات تھے کہ جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب اور برکتوں کو سمیٹنے والا تھا اور شامل ہونے والوں کو برکتیں دینے والا تھا۔اس کامیابی میں انسانی کوششوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔وہی کاموں میں برکت ڈالتا ہے اور ان میں بہتری نظر آتی ہے ورنہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ کام بڑا اچھا کر دیا۔حالانکہ اتنا اچھا نہیں ہوا ہوتا۔اور بعض دفعہ یہ خیال آتا ہے کہ کام میں فلاں فلاں کمی رہ گئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس طرح کمی پوری فرماتا ہے کہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کمی کو پورا فرمایا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ، اس کے آگے جھکتے ہوئے اور دعائیں کرتے ہوئے جب ہم اپنے کام کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فضل فرماتا چلا جاتا ہے۔اس لئے ہمیشہ شکر ادا کرتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے ہوئے ہر احمدی کو اپنے کام کرنے چاہئیں اور یہی ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔جب ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے اپنے کاموں کو سر انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں ، اس کا فضل ما نگتے ہیں ، اس کی مددمانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے وعدے کے مطابق کہ اگر تم شکر گزار بندے بنو گے تو میں مزید برکت ڈالوں گا ، برکتیں نازل فرماتا چلا جاتا ہے۔اپنے فضلوں اور برکتوں سے ہمیں نوازتا چلا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ایک نئی جگہ تھی اس کی وجہ سے فکر تھی کہ بعض کمیاں اور خامیاں رہ جائیں گی لیکن کارکنوں نے اللہ تعالیٰ کا فضل ما نگتے ہوئے بڑی محنت سے کام کیا ہے اور یہ بھی شکر کے مضمون کا ہی حصہ ہے کہ جو ذ رائع اور وسائل اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں، جو جسمانی طاقتیں اور استعداد یں اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائی ہیں ان سے بھر پور کام لو اور پھر معاملہ خدا پر چھوڑ دو۔یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کہا جائے کہ اے اللہ گزشتہ سال تو کام بڑے اچھے ہو گئے تھے ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہماری بڑی مددفرمائی اس سال بھی ہمارے کام اچھے کر دے لیکن جہاں تک ہمارا سوال ہے ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ اتنی محنت کر سکیں جتنی پہلے کرتے تھے۔پہلے سے ہی اگر آپ نعمت سے انکاری ہو جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے شکر کے مضمون کو نہ سمجھنے والی بات