خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 447 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 447

خطبات مسرور جلد سوم 447 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005 ء ہیں۔یہ پاکستان کی جو میں مثال دے رہا ہوں یہ پاکستان کی یا کسی خاص طبقے کی مثال نہیں ہے۔ان مغربی ممالک میں بھی میرے سامنے ایسی مثالیں ہیں کہ بغیر اطلاع کے بے وقت کسی کے گھر پہنچ گئے خواہ اپنے کسی عزیز کسی رشتے دار کے گھر ہی پہنچے اور گھر والے نے سمجھا کہ اس وقت آئے ہیں تو کھانا کھا کے ہی آئے ہوں گے اور جب گھر والے نے کچھ دیر کے بعد چائے پانی وغیرہ کے متعلق پوچھا تو یہ شکوے پیدا ہوئے کہ مجھے کھانے کے بارہ میں کیوں نہیں پوچھا، بڑا بداخلاق ہے، یہ ہے، وہ ہے۔تو یوں رشتوں میں پھر دراڑیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں اور دوریاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔آجکل کے زمانے میں جس طرح میں نے کہا ، رابطے کا نظام بہت تیز ہے، اطلاع کرنے کا نظام بڑا تیز ہے۔فون کر کے اطلاع کرنی چاہئے ، پوچھنا چاہئے کہ فلاں وقت میں آ رہا ہوں یا میں آنا چاہتا ہوں اگر مصروفیت نہ ہو اور وقت دے سکو تو میں آ جاؤں۔تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ آداب اس وقت سکھا دیئے جب کسی کو ان آداب کا پتہ ہی نہیں تھا۔پھر ایک جگہ حکم ہے کہ دعوت پر اگر بلایا جائے تو پھر جاؤ اور وقت پر جاؤ۔اور پھر جب دعوت سے فارغ ہو جاؤ تو واپس آ جاؤ۔بعض تو بڑی کھلی دعوتیں ہوتی ہیں شادی بیاہ وغیرہ کی۔ساری ساری رات ہو ہا ہوتی رہتی ہے، شور شرابے ہوتے رہتے ہیں۔ہماری جماعت میں تو کم ہے مگر غیروں میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔وہاں تو وقت کی پابندی نہیں ہوتی لیکن بعض سنجیدہ مجلسیں بھی ہوتی ہیں، جماعتی دعوتیں بھی ہوتی ہیں۔یا ایسی دعوتیں ہوتی ہیں جو جماعتی جگہوں پر کی جارہی ہوتی ہیں۔تو ان میں ان سب آداب کا خیال رکھنا چاہئے جو ان دعوتوں کے لئے مہمانوں کو ادا کرنے ضروری ہیں۔انہوں نے وقت پر جانا بھی ہے اور فارغ ہو کر اٹھ کر واپس آ جانا بھی ہے۔تو اس طرح کے مہمانوں کے لئے بے شمار احکامات ہیں۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے لوگوں کی دعوت کی۔کہیں سے کھانا آیا اور لوگوں کو بلا لیا کہ آ جاؤ۔تو راوی کہتے ہیں کہ جب ساروں نے کھانا کھا لیا تو اکثر لوگ تو چلے گئے ، بعض ان میں سے بیٹھے رہے اور باتوں میں مصروف ہو گئے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس بیٹھے نہیں بلکہ آپ اٹھ کر أُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنین کے حجرے کی طرف چلے گئے۔