خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 438 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 438

خطبات مسرور جلد سوم 438 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء تھے۔اپنے عمل کے ساتھ اپنی امت کو بھی یہی اسلوب آپ نے سکھائے اور نصیحت فرمائی ہر غیب دلوائی۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری سنت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میزبان جس کے گھر مہمان آیا ہوا عزاز و تکریم کے ارادے سے، اس نیت سے کہ اس نے مہمان کو عزت دینی ہے مہمان کے ساتھ گھر کے دروازے تک الوداع کہنے کے لئے آئے۔تو الوداع کہنے کے لئے باہر چھوڑنے کے لئے آپ باہر دروازے تک آیا کرتے تھے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے، آپ نے فرمایا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔(صحیح مسلم کتاب الايمان- باب الحث على اكرام الجار) تو مہمان نوازی بھی ایمان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ مہمان کا جائز حق ادا کرو۔اور جائز حق کے بارے میں فرمایا کہ کم از کم ایک دن اور رات کی مہمان نوازی ہے۔ویسے تو فرمایا کہ تین دن کی مہمان نوازی ہے۔پھر آپ کے اس اُسوہ اور نصیحتوں کا یہ اثر تھا کہ صحابہ نے ، مردوں نے بھی عورتوں نے بھی اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ کاٹ کر، بھوکا رہ کر اور بچوں کو بھوکا رکھ کر اپنے مہمانوں کی مہمان نوازی کے حق ادا کئے۔اور اسی طرح کی ایک اعلیٰ مثال روایت میں یوں ملتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسافر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ نے گھر کہلا بھیجا کہ مہمان کے لئے کھانا بھجواؤ۔جواب آیا کہ پانی کے سوا آج گھر میں کچھ نہیں ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا۔اس مہمان کے کھانے کا بندو بست کون کرے گا۔ایک انصاری نے عرض کیا حضور! میں انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ وہ گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر مدارت کا اہتمام کرو۔بیوی نے جوابا کہا کہ گھر میں تو صرف بچوں کے کھانے کے لئے ہے۔انصاری نے کہا اچھا تم کھانا تیار کرو۔پھر چراغ جلا ؤ اور جب بچوں کے