خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 436

خطبات مسرور جلد سوم 436 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005ء پھر دوسری اور تیسری یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔راوی کہتے ہیں کہ صبح اس نے اسلام قبول کر لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہنے کے لئے ارشادفرمایا جو اس نے پی لیا۔پھر آپ نے دوسری بکری کا دودھ لانے کا فرمایا تو وہ پورا دودھ ختم نہ کر سکا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک آنت میں کھاتا ہے جبکہ کا فرسات آنتوں کو بھرتا ہے۔(ترمذی کتاب الاطعمة با ماجاء ان المؤمن يأكل في معى واحد) تو اس وقت جب وہ کا فر تھا، مہمان تو بہر حال تھا اس کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ کھانا مفت مل رہا ہے تو اتنا تو نہ کھاؤ کہ تمہارا پیٹ خراب ہو جائے۔لیکن اگلے دن جب وہ آپ کے سلوک کی وجہ سے خود ہی مسلمان ہو گیا، اس نے اسلام قبول کر لیا تو اس کو خود بھی پتہ لگ گیا کہ زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا ہی نہیں ہوتا۔ایک رات میں ہی اس نیک فطرت کو احساس بہر حال ہو گیا اور ایک رات میں ہی آپ کی قوت قدسی کی وجہ سے، آپ کے حسن سلوک کی وجہ سے، مہمان نوازی کی وجہ سے، ایک تو اس کو اسلام کے نور سے منور ہونے کی توفیق مل گئی اور پھر زندگی کے مقصد کا پتہ چل گیا۔اور پھر اس وقت جو خوراک لی وہ ایک مومن کی خوراک تھی۔اسی طرح کے ایک واقعہ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں ذکر فرماتے ہیں کہ: ”ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبی کو اختیار کیا۔کوئی شخص عیسائی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔حضرت نے اس کی بہت تواضع و خاطر داری کی۔وہ بہت بھوکا تھا۔حضرت نے اس کو خوب کھلایا کہ اس کا پیٹ بہت بھر گیا۔رات کو اپنی رضائی عنایت فرمائی۔جب وہ سو گیا تو اس کو بہت زور سے دست آیا کہ وہ روک نہ سکا۔(اس بیچارے کا پیٹ خراب ہو گیا ) اور رضائی میں ہی کر دیا۔جب صبح ہوئی تو اس نے سوچا کہ میری حالت کو دیکھ کر کراہت کریں گے۔شرم کے مارے وہ نکل کر چلا گیا۔جب لوگوں نے دیکھا تو حضرت سے عرض کی کہ جو نصرانی عیسائی تھا وہ رضائی کو خراب کر گیا ہے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ مجھے دوتا کہ میں صاف کروں۔لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیوں تکلیف اٹھاتے ہیں۔ہم جو حاضر ہیں، ہم صاف کر دیں گے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ میرا مہمان تھا ، اس لئے میرا ہی کام ہے اور اٹھ کر پانی منگوا کر خود ہی صاف