خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 435
خطبات مسرور جلد سوم 435 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005ء کی ایک لمبی روایت ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص طلحہ بن عبید اللہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ اے ابو محمد ا تم اس بیمانی شخص یعنی ابو ہریرہ کو نہیں دیکھتے کہ یہ تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو جاننے والا ہے۔ہمیں اس سے ایسی ایسی احادیث سننے کو ملتی ہیں جو ہم تم سے نہیں سنتے۔اس پر انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسکین تھے ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان بن کر پڑے رہتے تھے۔ان کا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ ہوتا تھا۔اور ہم لوگ کئی کئی گھر والے اور امیر لوگ تھے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دن میں کبھی صبح اور کبھی شام آیا کرتے تھے۔(ترمذى ـ كتاب المناقب باب مناقب لابى هريرة رضى الله عنه – حديث نمبر 3846) - ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی کھانے کی کوئی چیز آتی تحفہ وغیرہ آتا تو آپ ان لوگوں کو پہلے بلا لیا کرتے جو مستقل وہاں پڑے ہوئے تھے۔پھر آپ کی مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ مہمان کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیتے تھے جس سے مہمان کو یہ خیال پیدا ہو کہ آپ کی میرے کھانے پر نظر ہے تا کہ وہ کبھی سبکی محسوس نہ کرے، شرمندگی محسوس نہ کرے۔بلکہ بعض دفعہ یہ ہوتا کہ اگر مہمان کے ساتھ کھانا کھا رہے ہوتے تو آہستہ آہستہ آپ خود بھی کھاتے رہتے تا کہ مہمان کسی شرمندگی کے بغیر کھاتا رہے۔لیکن بعض دفعہ یوں بھی ہوا کہ کوئی کا فرمہمان ہوا اور ضرورت سے زیادہ خوش خوراکی کا مظاہرہ کیا لیکن آپ نے اظہار نہیں ہونے دیا اور جتنی اس کی خواہش تھی ، جتناوہ پیٹ بھر سکتا تھا اس کے مطابق اس کو خوراک مہیا کی۔ایک واقعہ یوں بیان ہوتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص جو کافر تھا ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مہمان بنا۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہ کر لانے کے لئے فرمایا جو اس کافر نے پی لیا۔