خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 394
خطبات مسرور جلد سوم 394 خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005ء بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ - قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ - إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ - بمَا تَعْمَلُوْنَ ﴾ (النور:53-54) یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس کا تقویٰ اختیار کرے تو یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔تو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔دستور کے مطابق اطاعت کرو۔یقینا اللہ جو تم کرتے ہو اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔پس اگر حقیقت میں یہ سچا دعوی ہے تو پھر تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کریں، اس کے بندوں کے حقوق ادا کریں، جلسے کے دنوں میں جو نصائح کی گئی تھیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں۔اپنے اس عہد پر عمل کر کے دکھائیں کہ ہر معروف فیصلے پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ورنہ یہ عہد یہ دعوے کھو کھلے ہیں۔تم اپنی باتوں سے تو زبانی جمع خرچ میں یہ کہ سکتے ہو کہ ہاں ہم یوں کرتے ہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ان دعووں کی کنہ تک سے واقف ہے۔اس کو گہرائی تک علم ہے۔دلوں کا حال جانتا ہے۔باتوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے۔اس لئے اس کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔پس اللہ کا یہ خوف دل میں رکھتے ہوئے ہر احمدی کو اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر اس طرح زندگی گزارو گے تو تمہارا خلافت کے ساتھ تعلق بھی مضبوط ہوگا اور کیونکہ یہ تعلق خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہوگا اس لئے اللہ تعالیٰ تم پر اپنا فضل فرما تار ہے گا۔اللہ تعالیٰ نے خلافت کے انعام سے فیض پانے والے ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو نیک اعمال بھی بجالانے والے ہوں۔پس خلافت سے تعلق مشروط ہے نیک اعمال کے ساتھ۔خلافت احمدیہ نے تو انشاء اللہ تعالیٰ قائم رہنا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔لیکن نظام خلافت سے تعلق انہیں لوگوں کا ہوگا جو تقویٰ پر چلنے والے اور نیک اعمال بجالانے والے ہوں گے۔اگر جائزہ لیں تو آپ کو نظر آ جائے گا کہ جن گھروں میں نمازوں میں بے قاعدگی نہیں ہے، ان کا نظام سے تعلق بھی زیادہ ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے ہیں ان کا خلافت اور نظام سے تعلق بھی