خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 387

خطبات مسرور جلد سوم 387 (25) خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005 ء جماعت اور خلیفہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں نظام جماعت اور نظام خلافت کے تقاضے خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جولائی 2005ء بمقام انٹر نیشنل سنٹر ٹورانٹو ( کینیڈا) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔الحمد للہ کہ جماعت احمدیہ کینیڈا کا جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ اتوار کو بخیر وخوبی اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔ان جلسوں کی بھی اپنی ایک فضا ہوتی ہے جس میں مختلف ماحول اور طبقات کے لوگ ایک مقصد کی خاطر جمع ہوتے ہیں۔جماعت سے کمزور تعلق والے بھی جب ایک دفعہ جلسے پر آجائیں تو اپنے اندر جماعت اور خلافت سے اخلاص، تعلق اور وفا میں اضافہ اور بہتری دیکھتے ہیں۔پھر مختلف شعبہ جات کی ڈیوٹیاں ہیں جن میں سے بعض شعبے میرے یہاں قیام کی وجہ سے ابھی تک جاری ہیں ، کام کر رہے ہیں۔ان میں بھی مختلف طبیعتوں کے مالک افراد جن کا عام زندگی میں جلسے کے دنوں میں سپر د کردہ ڈیوٹیوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، وہ ایسی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہوتے ہیں جو عام زندگی میں اس سے بالکل مختلف کام کر رہے ہوتے ہیں۔اچھے بھلے پڑھے لکھے، کھاتے پیتے لوگ، جلسے کے مہمانوں کی خدمت کر کے ایک فخر محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔(حضور انور نے اس جگہ سب احباب تک آواز پہنچنے کے بارے میں استفسار فرمایا ) میں ذکر کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ خیر سے گز رگیا اور اس جلسے میں جو کمزور تعلق والے احمدی ہیں وہ بھی جب آ جاتے ہیں تو ان کو بھی ایک خاص تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔اور