خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 377

خطبات مسرور جلد سوم 377 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء دوسرے کو گلے لگائیں، جو روٹھے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کو منا ئیں۔جنہوں نے گلے شکوے دلوں میں بٹھائے ہوئے ہیں وہ ان گلوں شکووں کو اپنے دلوں سے نکال کر باہر پھینکیں۔اور ان دنوں میں عبادتوں کے ساتھ ساتھ محبتیں بانٹنے کی بھی ٹریننگ حاصل کریں۔یہ عہد کریں کہ پرانی رنجشوں کو مٹادیں گے۔ایک دوسرے کے گلے اس نیت سے لگیں کہ پرانی رنجشوں کا ذکر نہیں کرنا۔ایک دوسرے سے کی گئی زیادتیوں کو بھول جانا ہے۔کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرنی بلکہ حقیقی مومن بن کر رہنا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی گئی عبادتیں بھی قبولیت کا درجہ پائیں۔اور اللہ کی خاطر اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے کی گئی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگیاں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ پائیں۔اور یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان فرمودہ طریق کے مطابق مومن بن جائیں تبھی ہم مومن بن سکتے ہیں جب یہ باتیں اپنے اندر پیدا کریں گے جن کے بارے میں ایک روایت میں اس طرح ذکر آتا ہے۔حضرت عامر کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو مومنوں کو ان کے آپس کے رہن ، محبت اور شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا۔جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کا سارا جسم اس کے لئے بے خوابی اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔( صحيح مسلم - كتاب البر والصلة والأدب - باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم) خدا کرے آپ لوگ اپنے ماحول میں پیدا ہوتی ہوئی برائیوں کو ایک جسم کی طرح دیکھنے اور محسوس کرنے کے قابل ہو جائیں۔مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کینیڈا میں بڑی تیزی کے ساتھ شادیوں کے بعد میاں بیوی کے معاملات میں تلخیاں پیدا ہو رہی ہیں۔اور میرے خیال میں اس میں زیادہ قصور لڑکے، لڑکی کے ماں باپ کا ہوتا ہے۔ذرا بھی ان میں برداشت کا مادہ نہیں ہوتا۔یا کوشش یہ ہوتی ہے کہ لڑکے کے والدین بعض اوقات یہ کر رہے ہوتے ہیں کہ بیوی کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ (Understanding) نہ ہو۔اور ان کا آپس میں اعتماد پیدا نہ ہونے دیا جائے کہ کہیں لڑکا