خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 363

خطبات مسرور جلد سوم 363 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء پس جب بھی اللہ تعالیٰ آپ پر فضل فرمائے پہلے سے بڑھ کر اس کے حضور جھکنے والے بن جائیں۔اس کے حکموں پر عمل کرنے والے بن جائیں۔کامیابیاں آپ کو برائیوں کی طرف لے جانے والی نہ ہوں بلکہ تقویٰ میں بڑھانے والی ہوں۔مالی کشائش اور آسودگی آپ کو تقویٰ میں بڑھانے والی بن جائے۔آج کل دنیا کی ہوا و ہوس نے انسان کو اندھا کر دیا ہے۔نیکی اور بدی کی کوئی تمیز نہیں رہی۔ہمارے ملکوں میں چھپ کے برائیاں ہوتی ہیں، یہاں ظاہراً بھی ہو جاتی ہیں۔لیکن ہر جگہ ایک ہی حال ہے۔ان حالات میں ایک احمدی کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔اسی سورۃ میں ، سورۃ جمعہ میں ، جس کی ایک آیت کے کچھ حصے میں نے Quote کئے ہیں۔جہاں آخرین والا حصہ Quote کیا تھا۔اس میں آخرین سے پہلوں کے ساتھ ملنے کا ذکر ہے۔اور یہ بھی ذکر ہے کہ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو وقت کے نبی کو لہو ولعب کی خاطر اکیلا چھوڑ دیں گے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل نہیں کریں گے اور آپ کی پیشگوئی کے مطابق آنے والے مسیح و مہدی کو نہیں مانیں گے۔لیکن ہم جو احمدی ہیں ہم نے تو مسیح و مہدی کو مان لیا ہے، اس کے سلسلہ کبیعت میں داخل ہو گئے ہیں۔اس لئے اب بڑی فکر کے ساتھ اس دنیا کی چکا چوند سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کرتے ہوئے اس تعلیم پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوں جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں دی ہے تا کہ اس فیض سے حصہ پانے والے ہوں جو آپ کی ذات سے وابستہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات سے وابستہ ہے۔ورنہ مسجدیں تو اور بھی بنتی ہیں۔بظاہر نیکیاں اور جگہ بھی ہورہی ہوتی ہیں جن میں تقویٰ کی باتیں نہیں ہوتیں۔بعض مساجد میں اللہ تعالیٰ کے حکموں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے نفی کی تعلیم دی جارہی ہوتی ہے۔پاکستان وغیرہ میں اکثر دیکھیں گے آپ کو ایسا نظر آئے گا۔اور یہ سب کچھ بھی خدا کے نام پر ہورہا ہوتا ہے۔عمارتوں کے لحاظ سے بھی جو یہ دوسرے مسجدیں بناتے ہیں ، بہت اعلیٰ پائے کی بھی ہوتی ہیں۔لیکن وقت کے امام کی نافرمانی کی وجہ سے وہ تقویٰ سے عاری ہوتی ہیں۔اگر غور کریں تو دل میں خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ہم بھی اس رو میں نہ بہہ جائیں۔لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین اور ایمان ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ وہ اپنے وعدوں