خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 357 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 357

خطبات مسرور جلد سوم 357 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء نے اپنے سے کوسوں دور بھگا دیا تھا۔وہ خدا تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کرنے کے لئے بے چین اور بے قرار ہوتے تھے تبھی تو خدا تعالیٰ نے ان کے تقویٰ اور پاکیزگی کی گواہی دی ہے اور ان سے محبت کا اظہار کیا ہے۔لیکن کیا خدا تعالیٰ کے یہ پیار کے اظہار انہیں لوگوں پر ختم ہو گئے ہیں؟ کیا خدا تعالیٰ کے خزانے محدود تھے کہ پہلوں پر آ کر ختم ہو گئے؟ نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ کے خزانے تو لامحدود ہیں۔پس جب اس کے خزانے لامحدود ہیں تو پھر آج بھی وہ انہیں تقسیم کر سکتا ہے اور کرتا ہے بشرطیکہ بندہ بھی ان شرائط پر عمل کرے، ان حکموں پر عمل کرے جن کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔خدائے واحد کو پکارے ، ان مسجدوں کو اس کی عبادت کے لئے خالص کرے اور آباد کرے، اپنے اندر سے مخفی شرکوں کو ختم کرے خدا تعالیٰ تو اپنے بندے کو دینے کے لئے بے چین رہتا ہے۔یہ بندہ ہی ہے جو اس سے منہ موڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو اپنی طرف آنے والے بندوں کو دیکھ کر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنی کہ ایک ماں اپنے گمشدہ بچے کے مل جانے پر خوش ہوتی ہے اور پھر اسے اپنے سینے سے لگاتی ہے۔آج ہم احمدی جنہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے اور اس کے سلسلہ بیعت میں شامل ہوئے ہیں اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ہمیں زمانے کے امام کو مان کر اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے پر پہلوں سے ملنے کی ضمانت دی گئی ہے۔پس ان آخرین میں شامل ہونے کا فیض آپ تبھی اٹھا سکتے ہیں جب خدائے واحد کو پکارنے والے اور اس کے آگے جھکنے والے بھی ہوں گے۔اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی زندگیوں کو بسر کرنے والے بھی ہوں گے اور حقوق العباد ادا کرنے والے بھی ہوں گے۔آپ کی مساجد اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کا درس دینے والی ہوں گی اور یہاں آنے والوں کی بے چین دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے کی تڑپ بھی ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اللہ کا خالص بندہ بنے اور تقویٰ پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس نیت کے ساتھ مسجد بنانے والے ہوں کہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنی ہے تا کہ اس ارشاد سے بھی حصہ لیں جس کا حدیث میں بھی ذکر آتا ہے۔