خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 352

خطبات مسرور جلد سوم 352 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء جگہ حاضر ہے۔۔۔اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں۔اور کوئی فساد اور شرارت اور بد چلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔وہ پنج وقت نماز جماعت کے پابند ہوں۔وہ جھوٹ نہ بولیں۔وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔“ تکلیف نہ دیں وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں۔اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں“۔(اب یہ نہیں کہ ظلم کرنا نہیں ہے بلکہ خیال بھی دل میں نہیں لانا۔) غرض ہر ایک قسم کے معاصی ( یعنی گناہ ) اور جرائم اور نا کر دنی اور نا گفتنی ، یعنی تمام ایسی چیزیں جو نہ کرنی چاہئیں نہ کہنی چاہئیں اور تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں۔اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں۔اور کوئی زہریلا خمیر ان کے وجود میں نہ رہے اور تمام انسانوں کی ہمدردی ان کا اصول ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈریں۔اور اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچا دیں۔اور پنجوقتہ نماز کو نہایت التزام سے قائم رکھیں“۔( جماعت میں یہ ابھی کافی کمی ہے یعنی با قاعدہ نمازیں پانچ وقت نہیں پڑھی جاتیں ” اور ظلم اور تعدی ( حد سے بڑھنا ) ” اور غبن اور رشوت اور اتلاف حقوق (لوگوں کے حقوق مارنا ) اور بے جا طرف داری سے باز رہیں۔اب بے جا طرف داری میں یہ بھی آتا ہے کہ بعض دفعہ اپنے رشتہ داروں کا معاملہ اگر آ جائے تو بلا وجہ طرف داری کر دی جاتی ہے۔جماعت میں اگر کوئی شکایت ہوتی ہے تو بے جا طرفداری کر کے اس کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔یا اپنے کسی عزیز کی بے جا طرفداری کر کے دوسرے کے خلاف شکایت کی جاتی ہے۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن سے جماعت کے ہر آدمی کو بچنا چاہئے۔) اور کسی بد صحبت میں نہ بیٹھیں۔اور اگر بعد میں ثابت ہو کہ ایک شخص جو ان کے ساتھ آمد ورفت رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے احکام کا پابند نہیں ہے۔۔۔یا حقوق عباد کی کچھ پروا