خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 351
خطبات مسرور جلد سوم 351 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔یا درکھو کہ ہماری جماعت اس بات کے لئے نہیں ہے جیسے عام دنیا دار زندگی بسر کرتے ہیں۔نرا زبان سے کہہ دیا کہ ہم اس سلسلے میں داخل ہیں اور عمل کی ضرورت نہ سمجھی۔جیسے بدقسمتی سے مسلمانوں کا حال ہے کہ پوچھو تم مسلمان ہو تو کہتے ہیں شکر الحمد للہ۔مگر نماز نہیں پڑھتے اور شعائر اللہ کی حرمت نہیں کرتے۔پس میں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ صرف زبان سے ہی اقرار کرو اور عمل سے کچھ نہ دکھاؤ۔یہ کمی حالت ہے۔خدا تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔اور دنیا کی اس حالت نے ہی تقاضا کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے۔پس اب اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی حالت کی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا بلکہ زبانی اقرار ہی کو کافی سمجھتا ہے وہ گویا اپنے عمل سے میری عدم ضرورت پر زور دیتا ہے۔پھر تم اگر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہو کہ میرا آنا بے سود ہے تو پھر میرے ساتھ تعلق کرنے کے کیا معنے ہیں۔میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض و مقاصد کو پورا کرو۔اور وہ یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفاداری دکھاؤ اور قرآن شریف کی تعلیم پر اس طرح عمل کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔قرآن شریف کے صحیح منشاء کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ زبان سے اقرار کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خدا تعالی قائم کرنی چاہتا ہے وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی ، ( یعنی بغیر عمل کے زندہ نہیں رہ سکتی )۔یہ وہ عظیم الشان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدم کے وقت سے شروع ہوئی۔کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو۔پس اس کی قدر کرو اور اس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ اہل حق کا گر وہ تم ہی ہو“۔(ملفوظات جلد نمبر 2 صفحه 282 جدید ایڈیشن - الحکم صفحه 5 تا 8 پرچه 31 اگست 1902ء) تو یہ ہے وہ مقام جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔پھر آپ اپنی جماعت کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” میری تمام جماعت جو اس