خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 347

خطبات مسرور جلد سوم 347 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔اپنے دلوں میں ابراہیمی صفات پیدا کرنی ہوں گی۔اپنے عملوں کو بھی، اپنی عبادتوں کو بھی اس تعلیم کے مطابق ڈھالنا ہوگا جس کا ہمیں خدا نے حکم دیا ہے۔اپنی مساجد سے خدا کی وحدانیت کے نعروں کے ساتھ ساتھ پیار اور محبت اور اُلفت کے نعرے بھی لگانے ہوں گے تا کہ مقام ابراہیم پر کھڑا ہونے والے کہلا سکیں۔ورنہ یہ بیعت کے دعوے کھو کھلے دعوے ہیں۔عبادتوں کے یہ معیار قائم کئے بغیر اور عملوں کے یہ معیار قائم کئے بغیر ہم بھی وہیں کھڑے ہوں گے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آج وہ مسلمان کھڑے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں مانا۔جن کی مساجد بظاہر نماز پڑھنے والوں سے پر لگتی ہیں، بھری ہوئی لگتی ہیں لیکن وہاں نفرتوں کے نعروں اور ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔وہاں جس مُلاں کے قبضے میں منبر ہے وہ ہر دوسرے فرقے کے خلاف گالیاں بکنے کے علاوہ کچھ نہیں کہتا۔جہاں جانے والے بعض شرفاء یہ کہہ کر اٹھ کر جاتے ہیں کہ مولانا ہم اسلام سیکھنے کے لئے آئے تھے گالیاں اور مغلظات سننے کے لئے نہیں آئے۔تو بہر حال اس زمانے میں جب مسیح و مہدی کا ظہور ہو چکا ہے ان نام نہاد علماء نے اس کو نہ مان کر یہی کچھ کرنا تھا کیونکہ یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی جس کا ایک حدیث میں اس طرح ذکر آتا ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہ رہے گا۔الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانے کے لوگوں کی مسجد میں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور انہیں میں لوٹ جائیں گے۔(مشكوة المصابيح كتاب العلم - الفصل الثالث روايت نمبر 276) لیکن آپ لوگ جو ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان چکے ہیں واپس اس غار کی طرف نہ جائیں جہاں گہرے اندھیرے ہیں۔بلکہ نیکیوں پر قائم ہوتے ہوئے مسجدوں کو بھلائی، خیر اور روشنی کے مینار بنا ئیں۔