خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 343
خطبات مسرور جلد سوم 343 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء دلوں کو بھی جانتا ہے۔اگر ہمارے دلوں میں کوئی بھی ہے، کوئی ٹیڑھا پن ہے تو اس کو دور کر دے اور ہمیں بھی ان دعاؤں کا وارث بنادے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کی تھیں۔اے خدا ! جس طرح تو نے ان دو بزرگوں کی دعاؤں کو سنا آج ہماری بھی سن لے اور اس خانہ خدا کی تعمیر کو، اس مسجد کی تعمیر کو قبول فرما اور ہماری نسل میں سے بھی ، ہماری اولا دوں میں سے بھی ایسے لوگ ہمیشہ پیدا کرتارہ جو تیری عبادت کرنے والے ہوں۔اے اللہ ! ہم جو دنیا کے اس حصے میں آباد ہیں جہاں دنیا داری اور ہوا و ہوس نے لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔اے اللہ ! ایسا نہ ہو کہ اس دنیا کی چکا چوند کے بہاؤ میں ہم بھی یہ جائیں۔اس لئے ہماری رہنمائی فرماتے رہنا اور اس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند مسیح و مہدی موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس زمانے میں خلافت علی منہاج نبوت جو تو نے قائم کی ہے، ہماری کسی غلطی کی وجہ سے اس سے ہمیں دور نہ لے جانا۔ہماری دُور دُور کی نسلوں تک اس انعام کو قائم رکھنا۔ہمیں ہمیشہ یہ توفیق دینا کہ ہم اور ہماری نسلیں تو بہ کرتے ہوئے ہمیشہ تیری طرف جھکنے والی ہوں اور تو ہمیشہ ہماری تو بہ قبول فرماتے ہوئے ، ہم پر رحم کرتے ہوئے ، ہمیں اپنے رحم اور فضل کی چادر میں لپیٹے رکھنا۔اور ہمیشہ اس قابل بنائے رکھنا کہ ہم تیری عبادت کرنے والے بھی ہوں اور تیرے انعام خلافت سے وابستہ رہنے والے بھی ہوں۔پس جب ہر احمدی خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے یہ دعائیں کرتے ہوئے مساجد کی تعمیر میں حصہ لے گا اور ساتھ ہی اپنے عمل سے اپنی عبادتوں سے ان مساجد کے حسن کو سجا رہا ہو گا تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے وعدوں کے مطابق اپنے انعامات سے نوازتا رہے گا۔پس آپ اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ آپ نے پہلے ابراہیم کو بھی مانا اور اس نے جس عظیم نبی کے آنے کی دعا کی تھی اور جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا تھا اور ایک عظیم نبی ، ایک پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں مبعوث فرمایا تھا اس پر بھی مکمل اور کامل یقین رکھتے ہوئے اس کی بیشمار پیشگوئیوں کے ساتھ اس پیشگوئی کو بھی آپ نے مانا کہ آخری زمانے میں جو میرا روحانی فرزند مبعوث ہو گا اس کو مان لینا۔گھٹنوں کے بل برف پر چل کر بھی اس کے پاس جانا پڑے تو اس کے پاس جانا اور میرا