خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 342
خطبات مسرور جلد سوم 342 خطبہ جمعہ 10 / جون 2005ء نمازیوں سے ہوتا ہے، اس میں عبادت کے لئے آنے والے لوگوں سے ہوتا ہے۔ہماری مساجد کی بنیادیں تو ان دعاؤں کے ساتھ اٹھائی جاتی ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خدا کے گھر کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھیں۔احمدی وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر ایمان کی حرارت والے کہلاتے ہیں لیکن ان کے دل برسوں میں نمازی نہیں ہوتے۔جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہیں مانا ان کو تو ایمان کی حرارت کا ادراک بھی نہیں ہے۔پتہ ہی نہیں کہ ایمان کی حرارت کیا ہوتی ہے۔وہ تو ایمان کو سطحی طور پر دیکھتے ہیں سطحی طور پر لیتے ہیں۔ان لوگوں کو کیا پتہ کہ ایمان کی حرارت کیا ہوتی ہے۔پس یہ اعزاز جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر ملا ہے، اس کو قائم رکھنے کے لئے اپنے ایمانوں پر نظر رکھیں اور اپنی مسجد کی تعمیر کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعاؤں کو پیش نظر رکھیں تب ہی آپ ان لوگوں میں شمار ہو سکتے ہیں جو گو آخرین میں ہیں لیکن پہلوں سے ملنے والے ہیں۔وہ دعائیں کیا تھیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت کیں۔جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان میں ان کا ذکر آتا ہے۔ان آیات کا ترجمہ یہ ہے : اور جب ابراہیم اس خاص گھر کی بنیادوں کو استوار کر رہا تھا اور اسماعیل بھی۔یہ دعا کرتے ہوئے کہ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے قبول کر لے۔یقینا تو ہی بہت سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔اور اے ہمارے رب! ہمیں اپنے دوفرمانبردار بندے بنا دے اور ہماری ذریت میں سے بھی اپنی ایک فرمانبردار امت پیدا کر دے اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا۔اور ہم پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھک جا۔یقینا تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس ہم بھی اس مسجد کی بنیا در کھتے ہوئے یہی دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہماری اس حقیر قربانی کو قبول فرما۔تیرے حضور ہم یہ قربانی پیش کرتے ہیں۔تو نے خود ہی فرمایا ہے کہ میں دعاؤں کو سننے والا ہوں۔تو علیم بھی ہے، تو ہمارے ظاہر اور باطن کو جانتا ہے۔تو ہمارے گزشتہ حالات سے بھی باخبر ہے اور ہمارے آئندہ کے حالات بھی تو جانتا ہے کہ کیا ہونے والے ہیں۔تو ہمارے