خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 333
خطبات مسرور جلد سوم 333 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں سے یا پرانے لوگوں سے ایسا سلوک کرتا تھا اب اس کی یہ قدرت بند ہو گئی ہے۔اب اس کو یہ قدرت نہیں رہی نہیں، بلکہ آج بھی وہ زندہ اور قائم خدا یہ نظارے بے شمار احمد یوں کو دکھاتا ہے۔پس اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کی راہ میں کی گئی قربانیوں کو خدا تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا ہے۔وہ لا محدود قدرتوں کا مالک ہے۔وہ دیتا ہے تو اتنا دیتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن تقوئی اور نیک نیتی شرط ہے۔اس کے ساتھ ہی میں بعض اور تحریکات کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں ، ان کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ان میں سے ایک تو مریم شادی فنڈ ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی یہ آخری تحریک تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بابرکت ثابت ہوئی ہے۔بے شمار بچیوں کی شادیاں اس فنڈ سے کی گئی ہیں اور کی جا رہی ہیں۔احباب حسب توفیق اس میں حصہ لیتے ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ شروع میں جس طرح اس طرف توجہ پیدا ہوئی تھی اب اتنی توجہ نہیں رہی۔جو لوگ مالی لحاظ سے اچھے ہیں، بہتر مالی حالات ہیں ان کو پتہ ہی نہیں کہ بچیوں کی شادیوں پر غریب لوگوں کے کتنے مسائل ہوتے ہیں۔ایک تو میں عموماً لڑکے والوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا کا خوف کریں،ان کی بھی بچیاں ہوں گی، بلاوجہ کے مطالبے نہ کیا کریں۔تقویٰ پر قدم ماریں۔آپ بیٹے کی شادی کر رہے ہیں یا کوئی لڑکا اپنی مرضی سے اپنی شادی کرتا ہے۔یہ شادی ہے کوئی کاروبار نہیں ہے کہ اتنا جہیز ہو گا، اتنا زیور ہوگا، اتنا سرمایہ ہو گا، اتنی فلاں چیز ہوگی تو شادی ہوگی۔یہ سب دنیا کے دکھاوے کی چیزیں ہیں۔ایک احمدی کو یہ زیب نہیں دیتیں۔بعض ایسے خط بچیوں کی طرف سے آتے ہیں۔شادی کے بعد سسرال کی طرف سے بھی اور لڑکے کی طرف سے بھی یہ طعنے ملتے ہیں کہ کچھ نہیں لے کے آئی۔بعض لڑکے پاکستان سے بیاہ کر باہر آتے ہیں اور شاید اس سوچ کے ساتھ آ رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے وہاں جا کے سب کچھ سسرال سے ہی لینا ہے۔وہ مطالبے شروع کر دیتے ہیں کہ گھر ہمارے نام کرو اور فلاں چیز ہمارے نام کرو یا فلاں چیز ہمیں دو۔تو پھر بعض ایسے لوگ ہیں جو اپنے عزیزوں کے زیر اثر اس طرح کے گھٹیا قسم کے مطالبے کر رہے ہوتے ہیں۔شرم