خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 318
خطبات مسرور جلد سوم 318 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء کرے۔اور تیسری علامت حضرت میاں صاحب نے اپنی ذوقی علامت بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی رنگ میں نبی پر ظاہر کر دیتا ہے کہ کون آئندہ ہونا ہے۔بہر حال اس کا تعلق تو نبی سے ہے۔ضروری نہیں کہ ہر جگہ نبی کی طرف سے اظہار بھی ہو۔تو ان صاحب سے میں حضرت میاں صاحب کے الفاظ میں یہی کہتا ہوں کہ اس زمانے کی قدر کو پہچانو اور اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے نیک نمونہ چھوڑو تا کہ بعد کی نسلیں تمہیں محبت اور فخر کے ساتھ یاد کریں، اور تمہیں احمدیت کے معماروں میں یاد کریں نہ کہ خانہ خرابوں میں۔بہر حال یہ بتادوں کہ جب یہ مضمون شائع ہوا تھا۔جیسا کہ میں نے شروع میں یہ ذکر کیا تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس کا جواب بھی لکھا تھا۔تو میرے والد صاحب صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خدمت میں لکھا تھا کہ حضرت میاں صاحب کا جو یہ مضمون ہے اس میں جو ملوکیت والا حصہ ہے اس سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود کی تحریرات اور بعض الہامات سے تو یہ ثابت نہیں ہوتا۔ضمناً بتا دوں کہ یہ خط جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں میرے والد صاحب نے لکھا تھا وہ خط بھی میں نے پڑھا ہوا ہے۔پرانے کاغذات ایک دن میں دیکھ رہا تھا ان میں سے مجھے مل گیا۔اور اس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا نوٹ بھی تھا کہ تمہارا خیال ٹھیک ہے۔(کیونکہ اس کو پڑھے ہوئے کافی دیر ہو گئی ) مجھے یاد پڑتا ہے آپ نے یہ بھی لکھا تھا کہ احمدیت کی خلافت ملوکیت میں نہیں بدلے گی۔بہر حال پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے الفضل میں ایک پیغام شائع کروایا جو میں پڑھ دیتا ہوں تا کہ جن ذہنوں میں غلط نہی ہے وہ دور ہو جائے۔اور یہ بھی اتفاق کہہ لیں ، جیسے میں نے بتا دیا ، یا الہی تقدیر کہ میرے والد صاحب کے ذریعہ ہی اُس وقت خلیفہ وقت کو اس طرف توجہ پیدا ہوئی اور آر نے وضاحت فرمائی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ : " عزیزم مرزا منصور احمد نے میری توجہ ایک مضمون کی طرف پھیری ہے جو مرزا بشیر احمد صاحب نے خلافت کے متعلق شائع کیا ہے۔اور لکھا ہے کہ غالباً اس مضمون میں ایک پہلو کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی جس میں مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر کیا