خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 314

خطبات مسرور جلد سوم 314 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء گے اس کا مطلب ہے کہ مختلف وقتوں میں آتے رہیں گے ) ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں تو حید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو۔مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پاکر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔(رساله الوصيت روحانی خزائن جلد 20 صفحه 304تا 307) تو دیکھیں کہ کتنا واضح ہے کہ خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں تیرے ماننے والے ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔یہ غلبہ توحید کے قیام اور ایک ہاتھ پر اکٹھا ہونے کی وجہ سے ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ میں کسی خاص خاندان میں سے یا کسی خاص ملک میں سے ایسے لوگ کھڑے کروں گا جو دین کے استحکام کے لئے کوشش کریں گے بلکہ فرمایا کہ صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعاؤں میں لگے رہو۔پس بجائے ہوشیاریاں، چالاکیاں دکھانے کے صالح بنو اور دعاؤں میں لگے رہوتا کہ یہ خلافت کا انعام تم میں ہمیشہ جاری رہے۔جیسا کہ میں نے کہا یہ اعزاز قائم رکھنے کے لئے ، اگر یہ گزشتہ 97 سال سے کسی خاص ملک کے لوگوں کے حصے میں آ رہا ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے حصے میں آرہا ہے تو اس کو قائم رکھنے کے لئے ، دعاؤں اور نیک اعمال کی ضرورت ہے۔ورنہ کوئی قوم بھی جو اخلاص اور وفا اور تقویٰ میں بڑھنے والی ہوگی اس علم کو بلند کرنے والی ہوگی۔کیونکہ یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ ال قدرت دائمی ہے۔اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن دائمی قدرت کے ساتھ شرائط ہیں۔اعمال صالحہ۔اب افریقہ کے دورے میں گزشتہ سال کی طرح اس دفعہ بھی مختلف ملکوں میں جا کر میں نے احمدیوں کے اخلاص و وفا کے جو نظارے دیکھے ہیں ان کی ایک تفصیل ہے۔بعض محسوس کئے جا سکتے ہیں، بیان نہیں کئے جاسکتے۔تنزانیہ کے ایک دور دراز علاقے میں جہاں سڑکیں اتنی خراب