خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 312
خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء خطبات مسرور جلد سوم 312 صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے زمانہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اگر یہ مطلب لیا جائے کہ وہ تھیں سال تھی تو وہ تمہیں سالہ دور آپ کی پیشگوئی کے مطابق تھا۔اور یہ دائی دور بھی آپ ہی کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔قیامت کے وقت تک کیا ہونا ہے یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔لیکن یہ بتا دوں کہ یہ دور خلافت آپ کی نسل در نسل در نسل اور بے شمار نسلوں تک چلے جانا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ ، بشرطیکہ آپ میں نیکی اور تقویٰ قائم رہے۔اسی لئے اس پر قائم رکھنے کے لئے میں پہلے دن سے ہی تربیتی مضامین پر اپنے خطبات وغیرہ دے رہا ہوں۔مسلسل یہ وعدہ یا خبر جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھی اس کی تجدید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خبر دے کر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : غرض ( خدا تعالیٰ ) دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی رض قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا۔اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تر ڈو میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق کے وقت میں ہوا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت مجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے ( یعنی ان پڑھ، جاہل، گاؤں کے رہنے والے ) اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ﴾ (النور: 56) یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت