خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 311 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 311

خطبات مسرور جلد سوم 311 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء دوران جو میری حالت تھی وہ میں جانتا ہوں یا میرا خدا جانتا ہے۔یہ تو بے وقوفوں والی بات ہے کسی کا یہ سوچنا کہ خلافت کے لئے کوئی اپنے آپ کو پیش کرے۔عموماً غیر مجھ سے پوچھتے ہیں تو اُن کو میں ہمیشہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا یہ جواب دیا کرتا ہوں ، ان سے بھی کسی نے پوچھا تھا کہ کیا آپ کو پتہ تھا کہ آپ خلیفہ منتخب ہو جائیں گے۔تو ان کا جواب یہ تھا کہ کوئی عقلمند آدمی یہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔تو یہ صاحب لکھنے والے یا تو مجھے بیوقوف سمجھتے ہیں اور اپنی بات کی یہ خود ہی تردید بھی کر رہے ہیں (جس سے لگتا ہے کہ یہ بیوقوف نہیں سمجھتے ) کیونکہ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ تم نے بڑی ہوشیاری سے اپنا نام پیش کر وایا۔بہر حال مختلف وقتوں میں شیطان اپنی چالیں چلتا رہتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد سلسلہ خلافت کو ہمیشہ کے لئے قرار دیا ہے۔جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہے۔اب میں اس طرف آتا ہوں، وہ منی با تیں تھیں، کہ خلافت جماعت احمد یہ میں ہمیشہ قائم رہنی ہے۔حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔پھر وہ اس کو اٹھالے گا اور خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذاء رساں بادشاہت قائم ہوگی۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی جب تک اللہ چاہے گا۔پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا۔اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔اور یہ فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔(مشكوة المصابيح - كتاب الرقاق باب التحذير من الفتن الفصل الثالث) اور یہ جو دوباہ قائم ہوئی تھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی قائم ہوئی تھی۔پس یہ خاموش ہونا بتاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جو سلسلہ خلافت شروع ہونا ہے یا ہونا تھا۔یہ دائمی ہے۔اور یہ الہی تقدیر ہے۔اور الہی تقدیر کو بدلنے پر کوئی فتنہ پرداز بلکہ کوئی شخص بھی قدرت نہیں رکھتا۔یہ قدرت ثانیہ یا خلافت کا نظام اب انشاء اللہ تعالیٰ قائم رہنا ہے۔اور اس کا آنحضرت