خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 310

خطبات مسرور جلد سوم 310 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء یعنی خلافت قائم رکھنے کا وعدہ ان لوگوں سے ہے جو مضبوط ایمان والے ہوں اور نیک اعمال کر رہے ہوں۔جب ایسے معیار مومن قائم کر رہے ہوں گے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق خلافت کا نظام جاری رکھے گا۔نبی کی وفات کے بعد خلیفہ اور ہر خلیفہ کی وفات کے بعد آئندہ خلیفہ کے ذریعہ سے یہ خوف کی حالت امن میں بدلتی چلی جائے گی۔اور یہی ہم گزشتہ 100 سال سے دیکھتے آرہے ہیں۔لیکن شرط یہ ہے کہ ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہوں اور دنیا کے لہو ولعب ان کو متاثر کر کے شرک میں مبتلا نہ کر رہے ہوں۔اگر انہوں نے ناشکری کی، عبادتوں سے غافل ہو گئے ، دنیا داری ان کی نظر میں اللہ تعالیٰ کے احکامات سے زیادہ محبوب ہوگئی تو پھر اس نافرمانی کی وجہ سے وہ اس انعام سے محروم ہو جائیں گے۔پس فکر کرنی چاہئے تو ان لوگوں کو جوخلافت کے انعام کی اہمیت نہیں سمجھتے۔یہ خلیفہ نہیں ہے جو خلافت کے مقام سے گرایا جائے گا بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو خلافت کے مقام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے فاسقوں میں شمار ہوں گے۔تباہ وہ لوگ ہوں گے جو خلیفہ یا خلافت کے مقام کو نہیں سمجھتے، ہنسی ٹھٹھا کرنے والے ہیں۔پس یہ وارنگ ہے، تنبیہ ہے ان کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں یا یہ وارننگ ہے ان کمزور احمدیوں کو جو خلافت کے قیام و استحکام کے حق میں دعائیں کرنے کی بجائے اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کہاں سے کوئی اعتراض تلاش کیا جائے۔اب مثلاً ایک صاحب نے مجھے لکھا ، شروع کی بات ہے، کہ تم بڑی پلانگ کر کے خلیفہ بنے ہو۔پلاننگ کیا تھی؟ کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی وفات کا اعلان الفضل اور ایم ٹی اے پر تمہاری طرف سے ہوتا تھا تا کہ لوگ تمہاری طرف متوجہ ہوں۔انا للہ۔یہ میری مجبوری تھی اس لئے کہ حسب قواعد مجھے ناظر اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے یہ کرنا تھا۔بہر حال جرات اس شخص میں بھی نہیں جس نے یہ لکھا کیونکہ یہ بے نام خط تھا۔تو ایسا شخص تو خود منافق ہے۔اگر خلافت پر اعتماد نہیں تو پھر احمدی رہنے کا بھی فائدہ نہیں۔اور اگر پھر بھی ایسا شخص اپنے آپ کو احمدی ثابت کرتا ہے تو وہ منافق ہے۔مختصر ابتا دوں کہ اس وقت میرا تو یہ حال تھا کہ جب نام پیش ہوا تو میں ہل کر رہ گیا تھا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ کسی کا بھی ہاتھ میرے حق میں کھڑا نہ ہو۔اور اس تمام کارروائی کے