خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 304

خطبات مسرور جلد سوم 304 خطبہ جمعہ 20 رمئی 2005ء مانگتے ہوئے اور آئندہ کے لئے ان سے بچنے کا عہد کرتے ہوئے مستقل خدا کے سامنے جھکا رہے۔اور جب اِس طرح عمل ہو رہے ہوں گے تو خدا تعالیٰ اپنی پناہ میں لے لے گا۔اور جو خدا تعالی کی پناہ میں آ جائے تو اسے جیسا کہ میں نے پہلے بتایا شیطان کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔کیونکہ اب اس سے وہی عمل سرزد ہو رہے ہوں گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے عمل ہوں گے۔وہ تمام برائیاں ختم ہو جائیں گی جو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں روک ہیں۔پس ہر احمدی ہر وقت سچے دل سے استغفار کرتے ہوئے ، تو بہ کرتے ہوئے ، خدا تعالیٰ کے حضور جھکے تا کہ اس کا پیار حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ تو اپنے بندے کو اپنا پیار اور قرب دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے بلکہ بے چین رہتا ہے۔بلکہ بندے کی اس بارے میں ذراسی کوشش کو بے حد نوازتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص مجھ سے بالشت بھر قریب ہوتا ہے میں اس سے گز بھر قریب ہوتا ہوں۔اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے میں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔(صحيح مسلم كتاب التوبة - باب في الحض على التوبة والفرح بها تو دیکھیں جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول کرنے کے لئے اس قدر توجہ فرماتا ہے تو بندے کو کس قدر بے چینی سے اس کی طرف بڑھنا چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ گناہ سے بچی تو بہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا (رساله قشيرية باب التوبة) ہی نہیں۔جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو گناہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کے محرکات اُسے بدی کی طرف مائل نہیں کر سکتے۔واضح ہو کہ یہ مطلب نہیں کہ گناہ کرتے چلے جاؤ ، جان بوجھ کر گند میں گرتے چلے جاؤ اور سمجھو کہ میں نے استغفار کر لی ہے اور اللہ تعالی کہتا ہے کہ گناہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف ہے۔