خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 303
خطبات مسرور جلد سوم 303 خطبہ جمعہ 20 رمئی 2005 ء کو میں ہمیشہ کے لئے دین و دنیا کی نعمتوں سے نوازتا رہوں گا۔اُن کی زندگی میں بھی ان کے لئے اس دنیا کے دنیاوی سامان ہوں گے اور ان پر فضلوں کی بارش ہوگی۔اور اُن کے یہ استغفار اور اُن کے نیک عمل آئندہ زندگی میں بھی اُن کے کام آئیں گے۔اور یہی استغفار ہے جس سے شیطان کے تمام حربے فنا ہو جائیں گے۔استغفار کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل اور قرب کی چادر میں لپٹنے کی دُعا مانگی جائے۔جب انسان اس طرح دعا مانگ رہا ہو تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ دُعا نہ سنے اور انسان کی دنیا و آخرت نہ سنورے اللہ تعالیٰ نے تو خود فرمایا ہے کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ﴾ (المُؤمن : 61) کہ اللہ تعالیٰ سچے وعدوں والا ہے ، وہ تو اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب میرا بندہ مجھ سے دعا مانگے۔خود فرماتا ہے کہ تم مجھ سے مانگو میں دعا قبول کروں گا۔اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ کب میرا بندہ مجھ سے استغفار کرے، کب وہ بچے طور پر تو بہ کرتے ہوئے میری طرف رجوع کرے اور میں اس کی دُعاسنوں۔حدیث میں آتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بندے کی تو بہ پر اللہ تعالیٰ اتنا خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس آدمی کو بھی نہیں ہوتی جسے جنگل بیابان میں کھانے پینے کی چیزوں سے لدا ہوا اس کا گم ہونے والا اونٹ اچانک مل جائے۔“ (صحيح بخاري - كتاب الدعوات – باب التوبة) تو دیکھیں اللہ تعالیٰ تو اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب میرا بندہ تو بہ کرے، استغفار کر۔اور میں اس کے گزشتہ گناہ بخشوں اور آئندہ سے اسے اپنی چادر میں ڈھانپ لوں تا کہ وہ شیطان کے حملوں سے محفوظ رہے۔لیکن یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مستقل مزاجی سے اس پر قائم رہو۔ورنہ اگر ایک دفعہ استغفار کی ، دوبارہ گند میں پڑ گئے اور موت اس صورت میں آئی کہ شیطان کے پنجے میں گرفتار ہو تو پھر اس دن سے بھی ڈرو جس میں گناہوں میں گرفتار لوگوں کے لئے عذاب بھی بہت بڑا ہوگا۔پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ استغفار کرتے ہوئے اپنے گزشتہ گناہوں کی بخشش