خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 290

خطبات مسرور جلد سوم 290 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005 ء یعنی خیانت سے پیش آچکا ہے تو پھر بھی تم اس سے خیانت نہ کرو۔اگر اس کی کوئی امانت تمہارے پاس ہے تو اس کو لوٹا دو۔تو پھر دین کے معاملے میں اس کا کس قدرا حساس ہمیں رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” امانت و دیانت۔دوسرے کے مال پر شرارت اور بدنیتی سے قبضہ کر کے اس کو ایذا پہنچانے پر راضی نہ ہونا۔سو واضح ہو کہ دیانت اور امانت انسان کی طبعی حالتوں میں سے ایک حالت ہے۔اسی واسطے ایک بچہ شیر خوار بھی جو بوجہ اپنی کم سنی اپنی طبعی سادگی پر ہوتا ہے۔اور نیز باعث صغرسنی ابھی بری عادتوں کا عادی نہیں ہوتا۔اس قدر غیر کی چیز سے نفرت رکھتا ہے کہ غیر عورت کا دودھ بھی مشکل سے پیتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه (344) تو دیکھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کی یہ فطرت بنائی ہے کہ ایک بچہ جس کو دنیا کا کچھ بھی پتہ نہیں وہ بھی اپنا حق پہچانتا ہے۔اور سمجھتا ہے کہ دوسری عورت کا دودھ پینا خیانت ہے۔اگر ضرورت ہو تو آخر اس کو کوشش کے بعد دوسری عورت کا دودھ پینے کی عادت ڈالی جاتی ہے۔لیکن بڑے ہو کر ماحول کے زیر اثر بہت سے لوگ اکثر معاملات میں خیانت کرنے لگ جاتے ہیں۔اور انبیاء اس ماحول کے اثر کو پاک کرنے اور نیک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں۔اب ہم جو احمدی ہیں اور جنہوں نے اس زمانے میں مسیح موعود کی بیعت کی ہے۔آپ کو مانا ہے، ہمیں اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے ہر قسم کی خیانت سے بھی بچنا چاہئے۔جھوٹ سے بھی بچنا ہے دوسری برائیوں سے بھی بچنا ہے۔اور نہ صرف بچنا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور ایک مومن کی جو اللہ تعالیٰ نے نشانی بتائی ہے، اس نشانی کے مطابق ان برائیوں سے دوسروں کو بھی بچانا ہے اور ان کو بھی نیکیوں کی تعلیم دینی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنے اپنے دائرے میں اس عمل کے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور اللہ تعالیٰ آپ سب کو مضبوط احمدی بنائے جو اللہ اور اس کے رسول کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں۔آمین۔انشاء اللہ اگلے دو دن تک میں اگلے دو ملکوں کے دورے پر جاؤں گا۔اس کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے بابرکت کرے۔ہر لحاظ سے اپنی مدد اور نصرت فرما تار ہے۔آمین