خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 289
خطبات مسرور جلد سوم 289 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005 ء بندے کے دل میں ایمان اور کفر جمع نہیں ہو سکتے اور نہ سچائی اور کذب بیانی اکٹھے ہو سکتے ہیں۔اور نہ ہی دیانت داری اور خیانت اکٹھے ہو سکتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2صفحه349 مطبوعه بيروت) تو پہلی بات تو آپ نے یہ فرمائی کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص جس کے دل میں ایمان ہو وہ کفر کی باتیں بھی کہے۔جیسا کہ ہم شروع میں آیت میں دیکھ آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نیکیوں کا حکم دینے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے ہیں۔اور اس حدیث کے مطابق جو یہ نہیں کرتے ان کے دل میں کفر ہے۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ سچائی جو اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے اور جھوٹ جو کافروں کا عمل ہے ایک جگہ اکٹھے ہوسکیں۔اور اسی طرح دیانتداری جو ایمان کا حصہ ہے اور خیانت کسی کا مال کھانا، کسی کام کو صیح طور پر نہ کرنا جو یقیناً ایک مومن کی شان نہیں ، ایک جگہ جمع کیونکر ہو سکتے ہیں؟۔پس ہم جو احمدی مسلمان ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی ہے کہ ہم اللہ اور رسول کے حکموں پر چلیں گے اور سب برائیوں کو چھوڑیں گے اور تمام نیکیوں کو اختیار کریں گے۔ہمیں ہر برائی کو چھوڑنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔اگر انسان کا ارادہ پکا ہو، اور اللہ تعالیٰ سے فضل مانگ رہے ہوں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ برائیاں نہ چھٹیں اور آپ اس قابل نہ ہوسکیں کہ دوسروں کو نیکیوں کی تلقین کرنے والے بنیں۔سچ کو مان کر پھر انسان جھوٹ کس طرح بول سکتا ہے اور امانت کی ادائیگی کا عہد کر کے پھر کس طرح خیانت ہو سکتی ہے۔پس ہر احمدی جو بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوا ہے اس کا بیعت کا عہد بھی ایک امانت ہے۔اور کبھی کسی احمدی کو احمدیت کی تعلیم پر عمل نہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل نہ کر کے خیانت کا مرتکب نہیں ہونا چاہئے۔پس ہر احمدی اس پر سختی سے عمل کرے کہ نہ تو ذاتی طور پر اور نہ جماعتی طور پر خیانت کا مرتکب ہوگا۔اگر کسی کے سپر د کوئی جماعتی خدمت ہے تو وہ اسے نہایت ایمانداری سے ادا کرے گا۔اگر کسی کو جماعتی اموال کا نگران بنایا گیا ہے تو وہ اس کی نہایت ایمانداری سے حفاظت کرے گا اور کبھی کسی خیانت کا مرتکب نہیں ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ تم اپنی امانت کی ادائیگی کے معیاروں کو اس قدر بلند کرو کہ اگر دنیاوی معاملات میں بھی کوئی شخص تمہارے ساتھ