خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 279 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 279

خطبات مسرور جلد سوم 279 (17) خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005 ء امر بالمعروف ونهى عن المنكر اور جماعت کی ذمہ داری خطبه جمعه فرموده 6 مئی 2005ء بمقام مسجد بیت الرحمن، ممباسہ، کینیا ( مشرقی افریقہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی :۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَلَوْا مَنَ أَهْلُ الْكِتَبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ پھر فرمایا:۔( آل عمران: 111) اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہے۔تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔یعنی ہم لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، بہترین لوگ ہیں۔اور اب جبکہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش خبریوں کے مطابق آنے والے مسیح اور مہدی کو بھی مان لیا ہے جس نے اسلام کی بھولی ہوئی تعلیم کو دوبارہ ہم میں رائج کیا تو اس مسیح موعود کو ماننے کے بعد ہم یقیناً بہترین لوگ ہیں۔کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام سے