خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 270

خطبات مسرور جلد سوم 270 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005 ء کے برابر لے آئے گا جو صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔تو صحابہ نے یہ عمل شروع کر دیا۔لیکن کچھ عرصہ بعد جوامیر صحابہ تھے انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ نماز کے بعد بیٹھ کر وظیفہ کرتے ہیں۔کیونکہ ان صحابہ میں بھی نیکی میں آگے بڑھنے کی ایک لگن تھی۔دنیا دار امیر کی طرح تو نہیں تھے جو اپنی دولت کی وجہ سے اندھے ہو جاتے ہیں کہ نہ ہی خدا تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہیں اور نہ ہی بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔بلکہ دنیا دار امیر لوگ تو نیکیوں میں بڑھنے کی بجائے برائیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔بہر حال اُن امیر صحابہ کو بھی ان غرباء کو دیکھ کر یہ تجسس پیدا ہوا کہ یہ کیا ذکر الہی کرتے ہیں۔آخر ان کو پتہ چل گیا کہ یہ نماز کے بعد اس طرح ذکر الہی کرتے ہیں۔چنانچہ اُن امیر صحابہ نے بھی ذکر الہی شروع کر دیا۔کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو نیکیوں میں بڑھنے کے مفہوم کو سمجھتے تھے۔اس پر یہ غریب صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اُن امیر صحابہ کو بھی پتہ چل گیا ہے اور انہوں نے بھی ہماری طرح ذکر الہی اور وظیفہ شروع کر دیا ہے۔یہ لوگ پھر ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب میں کیا کر سکتا ہوں۔جس کو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کی توفیق دے رہا ہے اسے میں کس طرح روک سکتا ہوں۔(صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاة ـ باب استحباب الذكر بعد الصلاة و بيان صفته) تو دیکھیں یہ صحابہ کے ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کے نمونے تھے۔اور یہ نمونے ہمارے سامنے صرف اس لئے نہیں بتائے جاتے کہ ہم سنیں اور ان سے محظوظ ہوں۔بلکہ اس لئے ہیں کہ ہم اُن پر عمل کرنے والے بنیں۔صحابہ کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کا اس قدر شوق تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بار بار بڑے تجس سے اس بارے میں سوال کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے، حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے دور رکھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ایک بہت بڑی اور مشکل بات