خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 269
خطبات مسرور جلد سوم 269 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005 ء مومن، ہر احمدی ایک لگن کے ساتھ ، ایک تڑپ کے ساتھ اس دوڑ میں شامل ہوگا کہ اس نے نیکیوں میں ترقی کرنی ہے تو تصور کریں کہ ایسی صورت میں کس قدر حسین معاشرہ قائم ہو گا۔جہاں عبادتوں کے بھی اعلیٰ معیار قائم ہو رہے ہوں گے اور دوسری نیکیوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہوں گے۔کچھ تو ایک دوسرے کو دیکھ کر اس رنگ میں رنگین ہو رہے ہوں گے کہ ہم نے بھی وہ معیار حاصل کرنے ہیں جو دوسرے حاصل کر رہے ہیں۔ان کو بھی یہ فکر ہوگی کہ ہم نے بھی خدا تعالیٰ کا قرب پانے کے وہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہیں جو ہمارے بھائی حاصل کر رہے ہیں۔دوسروں کی عبادتوں اور نیکیوں کو دیکھ کر حسد کے جذبے پیدا نہیں ہوں گے بلکہ ان پر رشک آئے گا اور پھر خود بھی ان نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش ہوگی۔صحابہ کرام اس طرف بہت توجہ دیا کرتے تھے اور بڑی فکر کے ساتھ توجہ دیا کرتے تھے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ صحابہ اکٹھے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ دولتمند لوگ اپنی دولت کی وجہ سے سارا ثواب لے جاتے ہیں یا ان سے زیادہ ثواب لے جاتے ہیں۔وہ بھی نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں۔وہ بھی روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں۔وہ بھی دوسری عبادتیں کرتے ہیں جس طرح ہم عبادتیں کرتے ہیں۔لیکن ایک زائد بات اُن میں ہے جو ہم نہیں کر سکتے اور وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو امیر ہیں ، ان ساری نیکیوں کے ساتھ ساتھ اپنے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔لیکن ہم اپنی غربت کی وجہ سے باوجود خواہش ہونے کے اس میدان میں ان سے پیچھے ہیں۔ہمیں بھی کوئی راستہ بتا ئیں کہ ہم اس نیکی میں ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال نہیں دیا جو تم بطور صدقہ خرچ کرو؟ آپ نے یہ سوال کیا۔پھر آپ نے فرمایا کہ یاد رکھو کہ ہر تیج صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، اور الحمد للہ کہنا صدقہ ہے لا إلهَ إِلَّا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ایک روایت میں ہے، آپ نے فرمایا کہ تم لوگ ہر نماز کے بعد 33 دفعہ سُبْحَانَ الله پڑھا کرو، 33 دفعہ الْحَمْدُلِلہ پڑھا کرو، اور 34 دفعہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔یہ تمہیں ان امیروں ،