خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 265 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 265

خطبات مسرور جلد سوم 265 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005ء آواز آئی ہے۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی پریشانی دور کرنے کے لئے ہر طرف سے پھر پھرا کر تسلی کا پیغام لے کر ان کے نکلنے سے پہلے واپس بھی پہنچ گئے۔عام حالات میں تو کوئی بھی جائزہ لے سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا ، ایسے حالات میں جب دشمن کی طرف سے خطرہ بھی ہوا یسی جرأت کا مظاہرہ کوئی انتہائی جرات مندہی کر سکتا ہے۔اور یقیناً آپ کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔اس روایت سے آپ کے بہترین اور جرات مند سوار ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے کہ گھوڑا بھی منہ زور تھا (اس کے متعلق یہی مشہور تھا کہ بڑا منہ زور ہے ) اور بغیر کاٹھی کے اس پر سوار ہوئے۔سواری کرنے والے جانتے ہیں کہ ایسے گھوڑے کو قابو کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے اور پھر بغیر زمین کے۔غرض کوئی پہلو لے لیں جہاں بھی جرات و مردانگی کے اظہار کی ضرورت محسوس ہوگی یا نظر آئے گی وہاں اس وصف میں سب سے بڑھی ہوئی ذات ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی نظر آئے گی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کی جرات و شجاعت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ایک وقت ہے کہ آپ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیران کر رہے ہیں۔ایک وقت آتا ہے کہ تیر و تلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔سخاوت پر آتے ہیں تو سونے کے پہاڑ بخشتے ہیں۔حلم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے جو خدا تعالیٰ نے دکھا دیا ہے۔اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے جس کے سایہ میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جز و سے اپنی ضرورتوں کو پورا کر لے۔اس کا پھل، اس کا پھول اور اس کی چھال، اس کے پتے غرضیکہ ہر چیز مفید ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عظیم الشان درخت کی مثال ہیں جس کا سایہ ایسا ہے کہ کروڑ ہا مخلوق اس میں مرغی کے پروں کی طرح آرام اور پناہ لیتی ہے۔لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا تھا۔کیونکہ آپ بڑے خطرناک مقام میں ہوتے تھے۔سبحان اللہ ! کیا شان ہے۔اُحد میں دیکھو کہ تلواروں پر تلواریں پڑتی ہیں