خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 260
خطبات مسرور جلد سوم 260 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005ء شدت میں جب اس طرح آمنے سامنے جنگ ہو رہی ہو تو پتہ نہیں لگتا کہ اپنوں میں کون اپنے ساتھ ہے۔تو جب حضرت علیؓ نے دشمن کے وار سے بچ کر دیکھا ہوگا یا یہ دیکھا ہوگا کہ مجھے کس نے وار سے بچایا تو دیکھا آپ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے تو حضرت علیؓ کے متعلق مشہور ہے کہ جنگی حربوں کے ماہر تھے اور انتہائی نڈر انسان تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جرات و بہادری کے بارے میں جو آپ بیان کر رہے ہیں تو آپ ان کی پناہ میں ہیں۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثاني - الفصل الرابع عشر - الشجاعة والنجدة) پھر جنگ اُحد کا واقعہ دیکھیں جب بعد مشورہ آپ کی مرضی کے خلاف باہر جا کر دشمن سے مقابلے کا فیصلہ ہوا اور بعض صحابہ کو بعد میں اپنی غلطی کا احساس بھی ہوا اور اس پر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روکنے کی کوشش بھی کی۔تو جو جواب آپ نے دیاوہ جہاں آپ کے تو کل کو ظاہر کرتا ہے وہاں آپ کی جرات و شجاعت کا بھی اس میں خوب اظہار ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ بات نبی کی شان کے خلاف ہے کہ جب وہ ایک دفعہ ہتھیار باندھ لے پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلہ فرمانے سے پہلے اتار دے۔یعنی یا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہو یا پھر اب میدان جنگ میں ہی فیصلہ ہو گا۔اب جنگ سے بچنے کے لئے میں یہ کام نہیں کروں گا یہ جرات و مردانگی کے خلاف ہے۔اور نبی بھی وہ نبی جو خاتم الانبیاء ہے وہ اب یہ بزدلی کا کام کس طرح کر سکتا ہے۔اور پھر جب مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے جیتی ہوئی جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور دشمن نے مسلمانوں کو کچھ نقصان پہنچایا، مسلمان تتر بتر ہو گئے ، اس وقت بھی آپ ایک مضبوط چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔یہ بھی ایک عظیم واقعہ ہے۔اس کا مختلف روایات میں ذکر آتا ہے۔ایک جگہ یوں ذکر ملتا ہے کہ غزوہ احد میں بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریباً اکیلے ہی رہ جاتے تھے۔کسی ایسے ہی موقعہ پر حضرت سعد بن ابی وقاص کے مشرک بھائی عقبہ بن ابی وقاص کا ایک پتھر آپ کے چہرہ مبارک پر لگا جس سے آپ کا ایک دانت ٹوٹ گیا اور ہونٹ بھی زخمی ہوا۔ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اور پتھر جو عبداللہ بن شہاب نے پھینکا تھا اس نے آپ کی پیشانی کو زخمی کیا۔اور تھوڑی دیر کے بعد تیسرا پتھر جو ابن قمئہ نے پھینکا تھا آپ کے رخسار مبارک پر لگا جس