خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 258 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 258

خطبات مسرور جلد سوم 258 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005 ء گروہوں کو شکست دینے والا ہے تو ان لوگوں کو شکست دے اور ہمیں اپنی مدد سے ان پر غلبہ عطا فرما۔(بخارى - كتاب الجهاد والسير - باب لاتمنوا لقاء العدو) اور جب دعاؤں کے ساتھ آپ دشمن کے حملوں کا جواب دیتے تھے تو پھر جرات و بہادری کے وہ اعلیٰ جو ہر آپ دکھا رہے ہوتے تھے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔صحابہ میں سے بڑے بڑے بہادر بھی آپ کی جرات و بہادری کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے اور اس بات کی گواہی خود صحابہ دیتے ہیں۔چنانچہ حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم جب شدید لڑائی شروع ہو جاتی تو ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھال بنا کر لڑتے تھے۔اور ہم میں سے بہادر وہی سمجھا جاتا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ لڑتا تھا۔(مسلم کتاب الجہاد - باب غزوة حنين) اصولی طور پر جب جنگ ہو رہی ہو تو خطرناک جگہ بھی وہی ہونی چاہئے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تھے کیونکہ دشمن کی تو یہی کوشش ہوتی ہے کہ جب کسی قوم سے جنگ ہو تو یا مخالف قوم کے لیڈر کوقتل کر دیا جائے یا اس کو گرفتار کر لیا جائے تا کہ اس کی قوم کا حوصلہ پست ہو جائے اور فوجوں کا حوصلہ پست ہو جائے اور جنگ ختم ہو جائے۔اس لئے دشمن کا سارا زور مرکز کی طرف ہوتا ہے اور خاص طور پر جب آمنے سامنے جنگ ہو رہی ہو، اور قوم کے لیڈر بھی اس میں موجود ہوں تو پھر اندازہ کریں کہ کس طرح شدت کے ساتھ مخالف فوجیں اس مرکز میں پہنچنے کی کوشش کرتی ہوں گی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی فطرتی جرات اور بہادری کی وجہ سے دشمنوں کے سامنے بہت زیادہ آ جایا کرتے تھے اور پھر ایسے میں آپ کے جانثار صحابہ بھی کس طرح برداشت کرتے کہ آپ کو اکیلا چھوڑیں۔صحابہ کے لئے بھی جنگ میں یہی سخت ترین مقام ہوتا تھا اور دشمن کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ مرکزی ٹارگٹ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے اس لئے صحابہ پر حملہ کرنے کی نسبت آپ پر حملہ کرنے کی زیادہ کوشش ہوتی تھی۔لیکن دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا لیڈر بھی کسی قوم کو کیا ملا ہو گا کہ جو آپ کے اردگر دا کٹھے ہو رہے ہیں ،جمع